خادم رضوی کیلئے بری خبر، انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تحریک لبیک کے سربراہ کو مفرور قرار دے دیا

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کو مفرور قرار دیتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔ پراسیکیوٹر چوہدری شفقات نے عدالت میں بیان دیا کہ تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی، مولانا افضل قادری اور مولانا عنایت مقدمہ نمبر 345 جبکہ مقدمہ نمبر 334، اور 335 میں مولانا خادم حسین رضوی، مولانا افضل قادری، مولانا عنایت اور شیخ اظہر نامزد ہیں، بار بار طلبی کے باوجود چاروں ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔ چوہدری شفقات نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو مفرور قرار دیا جائے۔

عدالت نے ملزمان کی مسلسل عدم پیشی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے پولیس کو چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔ چوہدری شفقات کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر عدالت میں چالان جمع کرا دیں گے۔ ملزمان کی مسلسل عدم پیشی پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی، مولانا افضل قادری، مولانا عنایت اور شیخ اظہر مفرور ملزم قرار دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزمان 30 روز کے اندر پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا۔ عدالت نے مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کو 19 مارچ کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

میدیکل بورڈ ایک بار پھر خورشید شاہ کا طبی معائنہ کرے گا

میدیکل بورڈ ایک بار پھر خورشید شاہ کا طبی معائنہ کرے گا

اسلام آباد: اس سے قبل خورشید شاہ کو گزشتہ رات پولی کلینک اسپتال لے جایا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے