دکانوں اور آرمی یونٹ پر حملہ، چھ ہلاک

قزاقستان میں حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں نے دو اسلحے کی دکانوں اور ایک آرمی یونٹ پر حملے میں چھ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ ملک کے شمال مغرب کے علاقے اکتوبے میں پیش آیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں پولیس نے چار حملہ آوروں کو ہلاک کردیا جبکہ باقی حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ مفرور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے اور وہ مکانوں ہی میں رہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ حملہ آور اسلامی شدت پسند تھے۔

واضح رہے کہ قزاقستان میں اسلامی شدت پسندوں کے حملے بہت کم ہوتے ہیں۔ تاہم اکتوبے روس کی سرحد کے قریب ہے اور اسی شہر میں 2011 میں قزاقستان کا سب سے پہلا خودکش حملہ ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے دو اسلحے کی دکانوں کو نشانہ بنایا اور اس میں دکاندار سمیت سکیورٹی گارڈ اور ایک گاہک کو ہلاک کیا۔

اس کے بعد انھوں نے ایک بس پر قبضہ کیا اور آرمی یونٹ کے گیٹ کو توڑتے ہوئے اڈے میں داخل ہوئے اور تین فوجیوں کو ہلاک کیا۔

حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم نو فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

سوشل میلایا پر موجود ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اکتوبے کی سڑکوں پر مسلح افراد گھوم رہے ہیں اور فائرنگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

حکام نے اس حملے کے بعد ٹرنسپورٹ نظام، شاپنگ سینٹرز اور تفریحی مقامات بند کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں

کابل میں شادی کی تقریب میں خودکش حملے میں 63 افراد ہلاک، 180 زخمی

کابل میں شادی کی تقریب میں خودکش حملے میں 63 افراد ہلاک، 180 زخمی

  کابل میں شادی کی تقریب میں خودکش بم دھماکا، 63 افراد جاں بحق   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے