میں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ دوڑ کر میرے گلے لگ گئی اور پھر۔۔۔ سری دیوی کے انتقال کے روز ان کے شوہر دبئی پہنچے تو اس کے بعد اصل میں کیا ہوا تھا؟

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ سری دیوی کی اچانک موت نے پورے بھارت کو سوگ میں مبتلا کر دیا جبکہ دنیا بھر میں ان کے چاہنے والے غمگین ہو گئے۔ اداکارہ دبئی کے ہوٹل میں کمرے کے باتھ روم کے ٹب میں حادثاتی طور پر ڈوب پر انتقال کر گئی تھیں۔ اس معاملے پر کئی سوالات نے جنم لیا جبکہ ایک سیاسی جماعت کے رہنماء نے اسے قتل بھی قرار دیا لیکن اب سری دیوی کے شوہر اور فلم پروڈیوسر بونی کپور نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے جو دبئی میں شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس ممبئی آ گئے تھے لیکن سری دیوی کو سرپرائز دینے کیلئے ان کی موت سے چند گھنٹے قبل واپس دبئی پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے ممبئی سے دوبارہ دبئی روانگی تک کا تمام قصہ ٹریڈ اینالسٹ نہتا کو سنایا جنہوں نے اپنے بلاگ میں درحقیقت بونی کپور کی جانب سے بتائی گئی تمام تفصیلات لکھی ہیں کہ اس رات اصل میں کیا ہوا تھا۔ موہت کی شادی کے بعد سری دیوی نے اپنی بیٹی جھانوی کپور کیلئے شاپنگ کا منصوبہ بنایا تھا، جو اپنے کیرئیر کی پہلی فلم ”دھڑک“ کی شوٹنگ میں مصروفیت کے باعث دبئی روانہ نہیں ہو سکی تھیں۔

جھانوی کی شاپنگ کی فہرست سری دیوی کے موبائل فون میں موجود تھی جو کسی طرح سے گم ہو گئی جس کے باعث انہوں نے ہوٹل کے کمرے میں اکیلے وقت گزارنے کا فیصلہ کیا اور ہوٹل کے کمرے میں ہی وقت گزارنے لگیں۔ دوسری جانب اس دوران بونی کپور نے واپس دبئی جانے کافیصلہ کیا۔ غم میں ڈوبے بونی کپور نے اس دن کی یاد تازہ کرتے ہوئے بوجھل دل سے بتایا کہ ”24 فروری کی صبح میں نے اس سے فون پر بات کی، تو اس نے مجھے بتایا کہ ’پپا‘ (سری دیوی بونی کپور کو اسی نام سے بلاتی تھیں) ، مجھے تمہاری یاد آ رہی ہے۔ میں نے بھی اس سے کہا کہ مجھے بھی تمہاری یاد آ رہی ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ شام کے وقت میں دبئی میں اس کے پاس موجود ہوں گا۔ جھانوی نے بھی میرے دبئی جانے کا فیصلہ کی تائید کی کیونکہ وہ سہمی ہوئی تھی۔

اس کی ماں کو اکیلے رہنے کی عادت نہیں تھی، وہ اپنا پاسپورٹ یا دیگر اہم دستاویزات گما سکتی تھی۔ 24 سالوں کے دوران صرف دو مرتبہ ایسا موقع آیا جب ہم نے اکٹھے بیرون ملک سفر نہیں کیا۔ ایک مرتبہ وہ نیوجرسی گئی تھی اور دوسری مرتبہ وینکوور۔۔۔ اس موقع پر اگرچہ میں دونوں مرتبہ اس کیساتھ نہیں تھا لیکن اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ میرے دوست کی اہلیہ اس کیساتھ ضرور موجود ہو۔

غم سے نڈھال بونی کپور نے آنسوﺅں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ ”ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ وہ 2 روز کیلئے یعنی 22 اور 23 فروری کو غیر ملکی سرزمین پر اکیلی ٹھہری تھی۔ مجھے شام 3 بج کر 30 منٹ کی فلائٹ ملی اور جب میں ممبئی ائیرپورٹ کے لاﺅنج ایریا میں بیٹھا تھا تو سری دیوی کا پھر فون آ گیا۔

چونکہ میں اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا، اس لئے اپنی جان کو یہ بتایا کہ اگلے چند گھنٹوں کیلئے میں میٹنگ میں مصروف رہوں گا اور شائد میرا موبائل بھی بند ہو جائے تاکہ اگر وہ فون کرے تو موبائل بند کرنے پر پریشان نہ ہو۔ میں نے اسے میٹنگ سے فری ہو کر جلد از جلد فون کرنے کا وعدہ کیا۔

میرا منصوبہ اسے جمیرہ امارات ٹاور ہوٹل میں اس کے کمرے میں جا کر اسے سرپرائز دینا تھا۔میں دبئی کے مقامی وقت کے مطابق 6 بج کر 20 منٹ پر ہوٹل پہنچا۔ جب میں ہوٹل پہنچ کر رسمی کارروائی پوری کر کے سری دیوی کے کمرے کی ڈوپلیکیٹ چابی حاصل کر رہا تھا تو بیل بوائے سے بیگ ذرا دیر سے کمرے میں پہنچانے کو کہا کیونکہ میں اسے مکمل طور پر حیران کر دینا چاہتا تھا۔

جب میں نے دوسری چابی کے ذریعے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ دوڑ کر میرے گلے لگ گئی اور کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ تم مجھے لینے کیلئے دبئی ضرور آﺅ گے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کیساتھ آدھا گھنٹہ گزارا اور پھر میں فریش ہونے کیلئے باتھ روم میں چلا گیا۔ جب میں باہر آیا تو سری دیوی سے کہا کہ رومینٹک سے ڈنر کیلئے باہر چلتے ہیں۔

سری دیوی سے کہا کہ وہ جھانوی کی شاپنگ کل یعنی (اتوار) کو کر لے اور اس طرح ریٹرن ٹکٹس کی تاریخ ایک مرتبہ پھر تبدیل ہونا تھی کیونکہ دونوں نے 25 فروری کی رات کو واپس بھارت جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ ہمارے پاس 25 فروری یعنی اتوار کی صبح شاپنگ کیلئے کافی وقت ہونا تھا، اس فیصلے کے وقت ہی آرام کر رہی سری دیوی نے باتھ روم جا کر نہانے اور رومینٹک ڈنر کیلئے تیار ہونے کا ارادہ کیا۔

میں لیونگ روم میں چلا گیا جبکہ سری دیوی ماسٹر باتھ روم میں چلی گئی۔ میں نے ٹی وی آن کر لیا اور بھارت مقابلہ جنوبی افریقہ میچ دیکھنے کیلئے چینل ڈھونڈنے لگا لیکن 5 اور 6 منٹ چینل کی تلاش کے بعد میرے سامنے وہ چینل آ گیا جس پر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میچ کی جھلکیاں دکھائی جا رہی تھیں۔

میں نے 15 سے 20 منٹ تک جھلکیاں دیکھیں لیکن پھر بے چینی محسوس کرنے لگا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ ہفتے کی رات ہونے کے باعث ریسٹورنٹس میں بھی لوگوں کی بھیڑ ہو گی۔ اس وقت تقریباً 8 بج چکے تھے۔ میں نے اپنی بے چینی اور بے صبری کے باعث لیونگ روم میں بیٹھے ہی سری دیوی کو آواز دی۔ دو مرتبہ آواز دینے کے بعد ٹی وی آواز بھی کم کر دی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ پھر میں اٹھا اور بیڈروم میں جا کر باتھ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے آواز بھی دی۔

مجھے اندر سے ٹیپ کی آواز آ رہی تھی اور میں نے ”جان، جان“ کہہ کر دوبارہ آواز دی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ میں گھبرایا ہوا ضرور تھا لیکن جو کچھ اندر دیکھا اس کیلئے بالکل بھی تیار نہیں تھا۔ ٹب پانی سے مکمل بھرا ہوا تھا اور سری دیوی اس میں سر سے پاﺅں تک مکمل ڈوبی ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر میری جان ہی نکل گئی اور میں دوڑتا ہوا اس کے پاس پہنچا لیکن اسے غیر متحرک دیکھ کر مجھے زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگا۔

”سری دیوی ڈوب چکی تھی!!!“ یہ کہتے ہوئے بونی کپور کے الفاظ ٹوٹنے لگے اور وہ خود غم میں ایسے ڈوب گئے جیسے ان کی دنیا کا محور کسی اور دنیا میں چلا گیا ہو۔ بونی کپور کا خوبصورت سرپرائز دو گھنٹے بعد ہی زندگی کے سب سے بڑے غم میں بدل چکا تھا کیونکہ یہ سب کچھ بہت اچانک ہوا تھا۔

سری دیوی جو اپنے شوہر کیساتھ رومینٹک ڈنر کیلئے تیار ہونے گئی تھیں ، بدقسمتی سے درحقیقت غیر ارادی طور پر اپنے آخری سفر کیلئے تیار ہونے جا رہی تھیں۔ شوہر بونی کپور، سری دیوی کی فیملی اور ان کے لاکھوں مداح۔۔۔ کوئی بھی اس کیلئے تیار نہیں تھا، جو کچھ ہوا۔

وہ پہلے ڈوبیں اور پھر بے ہوش ہوئیں یا پھر پہلے بے ہوش ہوئیں اور پھر ڈوبیں، یہ کسی کو معلوم نہیں اور شائد کبھی معلوم بھی نہیں ہو گا۔ لیکن انہیں مزاحمت کیلئے بھی موقع نہیں ملا کیونکہ اگر انہوں نے جان بچانے کیلئے ہاتھ پاﺅں چلائے ہوتے تو ٹب سے باہر پانی گرا ہوتا۔ لیکن ٹب کے اردگرد فرش پر تو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ یہ پہلی کبھی حل نہیں ہوگی لیکن ان کے عزیز و اقارب کا اس کی شائد کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ انہیں سری دی کی پرواہ تھی اور وہ خوبصورت ٹیلنٹڈ اور لاکھوں دلوں پرراج کرنے والی سری دیوی مرحومہ ہو چکی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

مقبول فوک بلوچی گانے ’لیلیٰ او لیلیٰ‘ کو جدید انداز میں پیش

مقبول فوک بلوچی گانے ’لیلیٰ او لیلیٰ‘ کو جدید انداز میں پیش

عروج فاطمہ کا تعلق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ہے اور انہوں نے گزشتہ برس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے