ماں بننے سے انکاری خواتین نامکمل ہیں‘

ترکی کے صدر رجب طیب ارودغان نے کہا ہے کہ ایسی خواتین جو ماں نہیں بننا چاہتی وہ ’نامکمل‘ اور اُن میں ’کمی‘ ہے۔ انھوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ کم سے کم تین بچے پیدا کریں۔

ترکی کے صدر نے کہا کہ وہ پیشہ ورانہ زندگی میں کامیاب خواتین کی حمایت کرتے ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ اسے بچوں کی پیدائش میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے

ترکی کے صدر نے یہ بیان استنبول میں ترکی ویمن اینڈ ڈیموکریسی ایسوسی ایشن سے خطاب کے دوران کہی۔

خواتین اور معاشرے میں اُن کے کردار کے حوالے صدر ارودغان کے اس تازہ بیان کو ماضی میں خواتین کے بارے دیے گئے متنازع بیانات کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے ترکی کے صدر رجب طیب ارودغان نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ مانعیتِ حمل کو مسترد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں۔

ترکی کے سرکاری ٹیلی وژن پر براہِ راست خطاب میں انھوں نے کہا کہ مسلمان خاندانوں کو خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل طریقوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے جانشیوں کی تعداد کو دگنا کریں گے۔‘

رجب طیب اردوغان 12 برس ملک کے وزیرِ اعظم رہنے کے بعد اگست 2014 میں ترکی کے صدر بنے ہیں۔

ان کی جماعت اے کے پارٹی اسلام پسند ہے اور ان کے زیادہ تر حامی بھی قدامت پسند ہیں۔

صدر اروغان کے اپنے چار بچے ہیں اور انھوں نے عورتوں سے کہا ہے کہ وہ کم سے کم تین بچے پیدا کریں۔

اس پہلے بھی وہ سنہ 2014 میں ایک شادی کی تقریب کے دوران مانعیت حمل کے خلاف بولے تھے اور اسے بغاوت قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

ایران اور یورپ کے درمیان مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے، ترجمان وزارت خارجہ

ترجمان وزارت خارجہ نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی ملکوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے