قسمیں کھانیوالے جج کے دل میں ملال اور ضمیر پہ بوجھ ہے، مریم نواز

مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نوازکا کہنا ہے کہ ہم نے ہمیشہ گواہوں کو قسمیں کھاتے دیکھا لیکن کبھی منصف کو قسمیں کھانے نہیں دیکھا، جج اگر قسمیں کھا رہے ہیں تو اس کا مطلب کہ ان کے دل میں ملال اور ضمیر پر بوجھ ہے اور ضرور کوئی انصافی ہوئی ہے۔ گجرات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رہنماء مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا تھا کہ کارکنان سے ان کا وزیرِاعظم، جماعت کا نام، بلوچستان کی حکومت، پارٹی صدر اور (ن) لیگ کے سینیٹ امیدواروں سے ان کی شناخت اور نشان چھین لیا گیا اور انہیں آزاد قرار دے دیا گیا، لیکن گزشتہ روز سینیٹ الیکشن میں (ن) لیگ کا ایک رکن بھی نہیں ٹوٹا، نام چھن جانےکے باوجود نواز لیگ سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور تمام سینیٹرز نے جیتنے کے بعد کہا کہ ہم نے اپنی آزادی نواز شریف کے قدموں میں نچھاور کردی، سینیٹ انتخابات نے نواز شریف کو سرخرو کردیا۔ تمام کارکنان کو سینیٹ کی فتح مبارک ہو۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو اللہ اور عوام کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا، جتنی تیزی سے عدالتوں میں نواز شریف کے خلاف فیصلے ہورہے ہیں، اس سے زیادہ تیزی سے عوام کی عدالت سے ان کے حق میں فیصلے آرہے ہیں، ایک فیصلہ اس عدالت سے آتا ہے تو ایک فیصلہ عوام کی عدالت دیتی ہے، نواز شریف کو نااہل کرنے والوں کو رسوائی کے سوا کچھ نہ ملا۔ مریم نواز نے کہا کہ پہلے گواہ قسمیں کھاتے تھے، کبھی منصف کو قسمیں کھاتے نہیں دیکھا، جو جج قسمیں کھا رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ان کے دل میں ملال اور ضمیر پر بوجھ ہے۔ ان سے ناانصافی ہوئی ہے، جس کا جواب انہیں اللہ اور عوام کے سامنے دینا پڑے گا، کرسی اور اقتدار صدا نہیں رہتا، اللہ سے ڈرو، دھاندلی اور میچ فکسنگ کرکے نواز شریف کے خلاف فیصلے لینے والوں کے ماتھے پر شکست لکھی ہے۔ انہوں نے اپنے لوگوں کو بھی ووٹ نہیں ڈالے بلکہ پہلے سے شکست تسلیم کرلی ہے۔ اس سے قبل مریم نواز کو 15 ، 15 تولے سونے کے 3 تاج پہنائے گئے، پہلا تاج ایم پی اے چوہدری شبیر، دوسرا مشیر وزیرِ اعلیٰ پنجاب نواب ذادہ طاہرالملک اور تیسرا تاج لیگی کارکن نے پہنایا۔

یہ بھی پڑھیں

مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے ڈینگی بخار نے وبا کی صورت اختیار کرلی

مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے ڈینگی بخار نے وبا کی صورت اختیار کرلی

پنجاب: سرگودھا میں 50 سے زائد مقامات پر ڈینگی لاروا کی نشاندہی ہوچکی ہے جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے