سندھ ہائیکورٹ کا پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے ٹنڈوالہ یار کے پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف لوٹ مار کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عوام کے محافظ اور قانوں کے رکھوالوں پر سندھ ہائی کورٹ کراچی کے حکم پر سابق ایس ایس پی ٹنڈوالہ یار جاوید بلوچ سمیت چھ پولیس افسران اور دو پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹنڈوالہ یار کے بی سیکشن تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر دو سال قبل پشاور آرمری پر مبینہ غیر قانونی چھاپے کا مقدمہ فریادی ارشاد علی راجپوت کی فریاد پر سابق ایس ایس پی ٹنڈوالہ یار جاوید بلوچ ،سی آئی اے انچارج حیدرآباد منیر عباسی ،سابقہ سی ،آئی ،اے انچارج ٹنڈوالہ یار انور لاکھو ،سابق بی سیکشن ایس ایچ او مظھر مہندی ،سی آئی اے اسپیکٹر غلام حسین میرانی ،اے ایس آئی ظھیراحمد گاہو،کانسٹیبل غلام مصطفی کانسٹیبل علی احمد پر 395/220-34 پی پی سی کے قانون کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں فریادی ارشاد راجپوت نے اپنا بیان میں کہا ہے کہ 17.06.2014 کو رات کے وقت مذکورہ پولیس افسران و اہلکاروں نے ہماری بکیرا روڈ پر قائم پشاور آرمری پر مبینہ طور پرغیر قانونی چھاپہ مار کر ہماری دکان میں موجود بھاری مقدار میں رجسٹرڈ اسلحہ ،اسلحے کے لائسنس ،اور سولہ لاکھ بتیس ہزار چار سو روپے لوٹ کر لے گئے۔ جس کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر آج درج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

کراچی: قانونی مسودے کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد کراچی کے تمام ساحل سندھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے