افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک سے تعلق کا شبہ: امریکا نے 6 افراد پر پابندی لگادی

واشنگٹن: امریکا نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق کے شبے میں 2 پاکستانیوں اور 4 افغان شہریوں پر پابندی لگادی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ جن افراد پر پابندی لگائی گئی، ان میں عبدالقدیر بشیر، عبدالبصیر عبدالصمدثانی، حافظ محمد پوپلزئی، فقیر محمد اور گل خان حمیدی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان افراد کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں ماہ یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ امریکا نے گزشتہ 15 برسوں میں اسلام آباد کو احمقوں کی طرح 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیے لیکن بدلے میں اسے جھوٹ اور دھوکہ ملا۔

دوسری جانب امریکا نے پاکستان کی 255 ملین ڈالرز (25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) یعنی 28 ارب روپے کی فوجی امداد پر پابندی بھی معطل کردی تھی۔

تاہم ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل اور معیشت کی قیمت پر لڑی، لہذا ان قربانیوں اور شہداء کے خاندانوں کے درد کا بےحسی سے مالی قدر سے موازنہ کرنا ممکن نہیں۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے مشترکہ موقف اپنایا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل جنگ لڑی اور قیام امن کے لیے پاکستان نے تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد بار امریکا کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ خطے میں امن کے لیے مزید اقدامات کرے اور دہشت گروپوں کے خلاف کارروائیاں کرے۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کچھ نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

بھارت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کچھ نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت نے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے