وزارت داخلہ احسان اللہ احسان کے مقدمے سے ہی لاعلم

اسلام آباد:

پاکستانی وزارت داخلہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان اور جماعت الاحرار کے کمانڈر احسان اللہ کے مقدمے سے ہی لاعلمی کا اظہار کردیا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفوری حیدری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کے اس سوال کہ احسان اللہ احسان کے خلاف کیا مقدمہ چلایا جارہا ہے؟ پر تحریری جواب داخل کراتے ہوئے وزارت داخلہ نے بتایا کہ اس بارے میں ہمارے پاس کوئی جواب نہیں، احسان اللہ احسان کا معاملہ سویلین ایجنسیز کو بھجوایا تھا تاہم سویلین ایجنسیز کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو نہیں دیکھ رہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق حکومت نے اتھارٹیز کو حکم دیا ہے کہ عدالت کے حکم کے بغیر احسان اللہ احسان کو نہ چھوڑا جائے، اس لیے وزارت داخلہ کی سفارشات پر احسان اللہ احسان کے مقدمے کو خصوصی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا، اگر کمیٹی نے منظوری دی تو احسان اللہ کے خلاف کیس فوجی عدالت میں چلایا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال احسان اللہ احسان نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا تھا اور ان کی رہائی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے حکم نامے میں حکومت کو ملزم کو کسی صورت رہا نہ کرنے کا پابند کیا تھا۔ قبل ازیں وزارت داخلہ نے گزشتہ پانچ سالوں میں رجسٹرڈ ہونے والے تارکین وطن کی تفصیلات بھی سینیٹ میں پیش کیں۔ حکام نے بتایا کہ سندھ میں ایک لاکھ 13 ہزار 599 رجسٹرڈ تارکین وطن موجود ہیں، بلوچستان میں 1323، اسلام آباد میں 31، خیبر پختونخوا 560 اور پنجاب میں4423 تارکین وطن موجود ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق سات لاکھ 37 ہزار افغان مہاجرین کو افغان سٹیزن کارڈ جاری کئے جاچکے ہیں۔

لاپتہ افراد کے معاملے پر وزارت داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ سات سال میں افراد کی مبینہ گمشدگی کی 4608 شکایات موصول ہوئیں جس میں سے 2306 افراد کا سراغ لگایا گیا، لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن نے3076 کیسز نمٹائے جب کہ 1532 کیسز کی تفتیش جاری ہے۔ وزارت داخلہ نے گزشتہ 5 سالوں کے درمیان ہونے والے دہشتگردانہ واقعات اور ان میں جانی نقصان کی تفصیلات سے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 5 برسوں کے دوران کل 5992 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 5244 افراد شہید ہوئے، شہداء میں قانون نافذکرنے والے اداروں کے 1942 جبکہ 3302 عام شہری شامل ہیں، 2013 سے ابتک دہشت گردی کے واقعات میں 14204 افراد زخمی ہوئے، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3664 جبکہ 10545 عام شہری ہیں۔ سینیٹ اجلاس میں وزارت دفاع نے سرحدی سکیورٹی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر پر باڑ لگانے کا کام جاری ہےاس علاقے میں باڑ لگانے پر 65 ارب 80 کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے، جب کہ فاٹا اور خیبر پختون خوا کے ساتھ افغان سرحد پر 150 کلومیٹر علاقہ پر باڑ لگا دی گئی ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے علاقے میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے پر 56 ارب روپے خرچ آئے گا اور یہ منصوبہ تین سے چار سال عرصے میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بجلی چوری, پر, قابو پانے سے, اٹھاون ارب روپے, حاصل ہوئے

بجلی چوری پر قابو پانے سے اٹھاون ارب روپے حاصل ہوئے

اسلام آباد: بجلی کے بلوں کی وصولی میں اکیاسی ارب روپے کے اضافہ پر وزیراعظم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے