زینب کا قاتل عالمی مافیا کا رکن، وفاقی وزیر پشت پناہ، ثبوت سپریم کورٹ میں پیش

اسلام آباد: زینب قتل کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سینئر صحافی نے سپریم کورٹ کو ملزم کی پشت پناہی کرنے والے افراد کے نام پیش کر دیئے، چیف جسٹس نے ملزم عمران کوسخت سیکیورٹی فراہم کرنے اورجے آئی ٹی کوصحافی کی معلومات پرتحقیقات کاحکم دے دیا۔دوران سماعت زینب قتل کے ملزم عمران سے متعلق لرزہ خیزانکشافات پر عدالتی نوٹس پرصحافی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے ملزم عمران سے متعلق نئی معلومات دیں،اس پر صحافی نے عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ ملزم عمران علی عالمی مافیاکامتحرک رکن ہے،ملزم کواعلیٰ شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے اورملزم کی پشت پناہی میں وفاقی وزیراوراعلیٰ شخصیت ملوث ہیں،صحافی نے ملزم عمران کے 37بینک اکاو¿نٹس کی فہرست پیش کردی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ وفاقی وزیراور اعلیٰ شخصیت کانام چٹ پرلکھ کردیں،اس پر صحافی نے چیف جسٹس کودونوں افراد کے نام کاغذ پرلکھ کردیئے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دونوں نام ہماری تحویل میں رہیں گے،کسی کواس کاعلم نہیں ہوگا،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ نے بھی نئے انکشافات پرکمیٹی بنادی،6 رکنی کمیٹی میں آئی بی اوراسٹیٹ بینک افسران شامل ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم 2 روزمیں تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے،ملزم پولیس حراست میں ہے،سیکیورٹی کے ذمہ دارآئی جی ہوں گے،چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ جوڈیشل ریمانڈپر سیکیورٹی کی ذمہ داری آئی جی جیل خانہ جات کی ہوگی،سیکیورٹی میں کوتاہی ہوئی تودونوں آئی جیزذمہ دارہوں گے۔عدالت نے کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیں

بجلی چوری, پر, قابو پانے سے, اٹھاون ارب روپے, حاصل ہوئے

بجلی چوری پر قابو پانے سے اٹھاون ارب روپے حاصل ہوئے

اسلام آباد: بجلی کے بلوں کی وصولی میں اکیاسی ارب روپے کے اضافہ پر وزیراعظم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے