راؤ انوار نے نقیب کےساتھ ہلاک نذر کی رہائی کیلئےسوا لاکھ روپے مانگے، لواحقین

کراچی: بے گناہ نوجوان نقیب اللہ کی ماورائے عدالت ہلاکت میں ملوث معطل ایس ایس پی راؤ انوار سمیت کسی بھی پولیس اہلکار کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں نقیب اللہ کے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف سہراب گوٹھ میں لگائے گئے احتجاجی و تعزیتی کیمپ میں راﺅ انوار کے خلاف شکایات کے ڈھیر لگ گئے جب کہ کیمپ کے سامنے راؤ انوار کے پتلے کو علامتی پھانسی بھی دی گئی۔تعزیت کے لئے سیاسی و سماجی شخصیات، عام شہریوں اور مبینہ پولیس مقابلوں میں مارے گئے افراد کے لواحقین نے شرکت کی۔ کیمپ میں شریک ہونے والوں کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ راؤ انوار کو پھانسی دو۔ نقیب اللہ کے ساتھ جعلی مقابلے میں ہلاک دوسرے شخص نذرجان کے لواحقین نے بھی جرگے میں بتایا کہ نذرجان کا تعلق بھی وزیرستان ایجنسی سے ہے، اس کو حراست میں لے کر پولیس نے رہائی کے لئے ایک لاکھ 30 ہزار روپے مانگے تھے، تاوان نہ دینے پر نذر جان کو 13 جنوری کو شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا گیا۔جرگے میں دیگر مقتولین کے لواحقین نے سابق سی ٹی ڈی افسر خرم وارث پر بھی 3 شہریوں کے ماورائے عدالت قتل کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ خرم وارث نے 7 جنوری 2015 کو نور عالم، گل پیر خان اور امیرخان کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا، مقابلے کی تحقیقات کرائی جائے۔نقیب کے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان کی گرفتاری میں تاحال ناکام ہے اور راؤ انوار روپوش ہیں۔ پولیس راؤ انوار سمیت ان کی ٹیم میں سے کسی بھی اہلکار تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ مقتول نقیب کے والد کی مدعیت میں راؤ انوار کے خلاف سچل تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس میں قتل، اغوا اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔نقیب قتل کے مقدمے کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ ٹو ایس پی عابد قائم خانی کے سپرد کی گئی ہیں تاہم پولیس غیر سنجیدہ نظر آتی ہے۔ پولیس افسران اپنے فون بند کرکے میڈیا اور اہلخانہ کے سوالوں سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آئی جی سندھ نے نقیب قتل کیس میں ڈی آئی جی سلطان خواجہ کو فوکل پرسن بنایا ہے تاہم کیس کے فوکل پرسن اور تفتیشی افسر نے فون بند کرلئے ہیں۔ سلطان خواجہ میڈیا کو آگاہی فراہم کرنے کے بجائے ذاتی مصروفیات میں مشغول ہیں جبکہ انویسٹی گیشن آفیسر عابد قائمخانی کا بھی فون بند ہے اور وہ دفتر میں بھی موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

وفاقی حکومت کا اقدام صوبائی خود مختاری پر حملے کے مترادف ہے

وفاقی حکومت کا اقدام صوبائی خود مختاری پر حملے کے مترادف ہے

کراچی: بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت عوامی ردعمل سے پہلے اسپتالوں پر اپنا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے