یمن جنگ میں شریک ممالک کے لیے جرمن اسلحے کی فراہمی معطل

برلن: جرمنی نے ان ملکوں کو اسلحے کی فروخت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو یمنی جنگ میں ملوث ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت کے ترجمان اشٹیفان زائبرٹ نے بتایا کہ جرمنی کی فیڈرل سکیورٹی کونسل نے یمنی جنگ میں شریک ممالک کو اسلحے کی فروخت کی مزید اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ فیڈرل سکیورٹی کونسل جرمنی کا اعلٰی ترین حکومتی ادارہ ہے، جو مختلف ممالک کو اسلحے کی فروخت سے متعلق ڈیلوں کی حتمی منظوری دیتا ہے۔ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک عسکری اتحاد قائم ہے، جس میں اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، کویت، مراکش، سوڈان اور سینیگال شامل ہیں۔ خلیجی ریاستیں سعودی عرب کے ساتھ اس جنگ میں پوری طرح شریک خیال کی جاتی ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، ان 10 ملکوں میں شامل ہیں، جنہوں نے سن 2016ء میں سب سے زیادہ جرمن اسلحے کی خریداری کی تھی۔ دوسری جانب سعودی عرب کے ایک سینیئر اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ سرِدست ریاض حکومت جرمنی سے مزید اسلحے کی خریداری میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل رواں برس اپریل میں سعودی عرب کا دورہ بھی کرنے والی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے