روسی صدر شمالی کوریا پر عائد عالمی پابندیوں کو سبوتاژ کررہے ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن جان بوجھ کر شمالی کوریا پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کو سبوتاژ کررہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین نے شمالی کوریا کو ایندھن کی فراہمی پر عائد پابندیوں کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا لیکن اب روس نے چین کی جگہ سنبھال لی ہے اور وہ شمالی کوریا کے حوالے سے امریکا کے ساتھ بالکل تعاون نہیں کررہا، بلکہ یوں لگتا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن جان بوجھ کر شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کو سبوتاژ کررہے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا ایسے بیلسٹک میزائلوں کی تیاریاں کررہا ہے جن کی براہ راست پہنچ امریکا تک ہے لیکن تمام عالمی کوششوں کے باوجود ہم اس حوالے سے مؤثر نتائج حاصل نہیں کرپارہے جس کی بظاہر وجہ یہی ہے کہ چین شمالی کوریا سے جو کچھ بھی واپس لے رہا ہے وہ روس اسے فراہم کررہا ہے اور بدقسمتی سے روس امریکا تعلقات بھی ایسے نہیں جن سے بہتری کی امید کی جاسکے۔

امریکی صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ضرورت پڑی تو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ سے ملاقات کی جاسکتی ہے، لیکن شمالی کوریا کے رویئے کے باعث دوریاں بڑھ بھی سکتی ہیں۔دوسری جانب روس کی وزارت خارجہ کے حکام نے ٹرمپ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے، روس کے سرکاری میڈیا میں نشر کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ روس ایک ذمہ دار ملک ہے اور شمالی کوریا کی کوئی مدد نہیں کررہا ۔ اس سلسلے میں امریکی صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے برخلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے