پنجاب حکومت وقف شدہ جائیداد پر قبضے کا دفاع کیوں کررہی ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار نے گوجرانوالہ میں تعلیمی مقاصد کیلئے وقف کردہ زمین پر قبضے کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ پنجاب حکومت وقف شدہ جائیداد پر قبضے کا دفاع کیوں کررہی ہے، قابضین کیلئے ریاست کیوں فکر مند ہے، بلڈوزر لیکر غیرقانونی تعمیرات گرا دیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گوجرانوالہ میں تعلیمی مقاصد کیلئے وقف کردہ 99 کنال 10 مرلہ زمین پر قبضے کیخلاف کیس کی سماعت کی۔1947 میں میاں رحمت علی نے 99 کنال 10 مرلہ زمین تعلیمی مقاصد کیلئے وقف کی تھی لیکن قبضہ مافیا نے یہ زمین ہتھیا لی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ تعلیمی مقاصد کیلئے زمین بابا رحمتے نے نہیں میاں رحمت علی نے وقف کی، تعلیم کیلئے وقف کی گئی زمین پر کچی آبادی قائم کردی گئی، اور اب وقف زمین پر پلازے بن چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب حکومت وقف شدہ جائیداد پر قبضے کا دفاع کیوں کررہی ہے، قابضین کیلئے ریاست کیوں فکر مند ہے، بلڈوزر لیکر غیرقانونی تعمیرات گرا دیں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ڈی سی گوجرانوالہ وقف کردہ زمین کا سروے کرکے تفصیلی رپورٹ دے، عدالت نے رپورٹ میں تصاویر کے زریعے صورت حال واضح کرنے کی بھی ہدایت کی۔ کیس کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

بجلی چوری, پر, قابو پانے سے, اٹھاون ارب روپے, حاصل ہوئے

بجلی چوری پر قابو پانے سے اٹھاون ارب روپے حاصل ہوئے

اسلام آباد: بجلی کے بلوں کی وصولی میں اکیاسی ارب روپے کے اضافہ پر وزیراعظم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے