سکھوں کے گوردواروں میں بھارتی حکام کے داخلے پر پابندی عائد

لندن: سکھ تنظیموں کی جانب سے دنیا بھر میں واقع گوردواروں میں بھارتی حکومتی عہدیداران کے داخلے پر پابندی کے بعد سے بھارتی حکومت کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

دی نیوز اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سکھ تنظیموں کا موقف ہے کہ سکھوں کے مفاد کے خلاف اور انتہا پسند ہندو گروپوں کے نظریات کی ترویج کے لیے گوردواروں کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

برطانیہ کی سکھ فیڈریشن نے بھارتی حکومتی عہدیداران کے گوردواروں میں داخلے پر پابندی کی تجویز دی، جس کے بعد پیر (8 جنوری) کی شام تک تقریباً 100 گوردواروں نے تصدیق کی کہ بھارتی حکام کی گوردواروں کے اندر سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

سکھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کو گوردواروں میں آنے کی اجازت ہے لیکن وہ اس پلیٹ فارم کو نریندر مودی حکومت یا ہندو انتہاپسندوں کے نظریات کے پرچار کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ کینیڈا کے گوردوارے پہلے ہی بھارتی حکام کے داخلے پر پابندی لگا چکے ہیں۔

دوسری جانب یورپ کے 100 گوردواروں میں بھارتی حکام کے داخلے پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے اور اگر اس تعداد میں کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دیگر جگہوں کو بھی شامل کیا جائے تو بھارتی حکومتی افسران کو دنیا بھر کے 300 سے زائد گوردواروں میں داخلے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اسلام آباد: بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے