داعش میں شامل جرمن شہریوں کے 100 سے زائد بچے وطن واپس لوٹ سکتے ہیں

برلن: جرمن اخبار نے خبردار کیا ہے کہ شام اور عراق جا کر انتہا پسند گروہ داعش کی رکنیت اختیار کرنے والے جرمن شہریوں کے 100 سے زائد بچے واپس وطن لوٹ سکتے ہیں۔جرمن اخبار دی ویلٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ وفاقی حکومت نے یہ اعداد و شمار گرین پارٹی کے پارلیمانی حزب کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتائے۔ جرمن قوانین کے تحت ملکی شہریوں کو واپس وطن آنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 950 جرمن شہری اس دہشت گرد گروہ کی رکنیت اختیار کرتے ہوئے شام یا عراق گئے تھے، جن میں سے ایک تہائی واپس جرمنی پہنچ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایران اور یورپ کے درمیان مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے، ترجمان وزارت خارجہ

ترجمان وزارت خارجہ نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی ملکوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے