ٹرمپ کے میشر نے پاکستان پر ایک اور سنگین الزام عائد کردیا

واشنگٹن: امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامی مک ماسٹر نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی یہ خارجہ پالیسی کا حصہ ہے کہ شدت پسندوں کے مخصوص گروہوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کریں، امریکی صدر کا غصہ اور ٹوئیٹ خود ہی سب کچھ واضح کرتی ہے ، امریکی صدر بھی پاکستان سے اپنی توقعات کی قدر کرتے ہیں ۔

وائس آف امریکہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر کے بیان اور اس کے بعد کی صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں مک ماسٹر کا کہناتھاکہ صدر ٹرمپ کو پاکستان کے رویئے پر غصہ آیا کہ وہ ایسے گروپوں کی حمایت کرتے ہیں ، وہ چند مخصوص دہشتگرد گروپوں کا پیچھا کرتے ہیں جبکہ دوسروں کو خارجہ پالیسی کے اہم ہتھیار کے طورپر استعمال کرتے ہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ صدر ٹرمپ کو پاکستان کے عوام کیساتھ ہمدردیاں ہیں جو دہشتگردوں کا نشانہ بنے اور وسیع تعداد میں پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیااور ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کسی تفریق کے بغیر ان دہشتگردگروہوں کیخلاف کارروائی کرے ۔

انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ اسے الزام تراشی کہیں گے ، پاکستان کو ہم نے واضح پیغام دیا کہ ایسے میں ہمارے تعلقات زیادہ دیر برقرارنہیں رہ پائیں گے حالانکہ ہمیں اب افغانستان کے استحکام کیلئے مل کر کام کرناچاہیے ، اس سے پاکستان کا اپنا مفاد بھی ہے ۔ یاد رہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا جن میں مسلح افواج اور شہری بھی شامل ہیں لیکن اب امریکی حکام بھارتی زبان بولناشروع ہوگئے اور پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے الزام تراشیاں شروع کردیں۔

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے