”آپ بہترین ایجنسی ہیں، ملک کا مذاق نہ بنائیں “ سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کو وہ بات کہہ دی جو آج تک تاریخ میں کسی نے نہ کہی

اسلام آباد: پاکستان سپریم کورٹ نے گزشتہ سال کے فیض آباد دھرنے کی نگرانی کے لئے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ بہترین ایجنسی ہیں ،ملک کا مذاق مت بنائیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیض آباد پر ہونے والے دھرنے پر ازخود نوٹس کی سماعت کی، جس دوران معزز جج نے آئی ایس آئی کے نمائندے سے پوچھا کہ کیا ایجنسی میں اس طرح کے مظاہروں کی نگرانی کرنے کیلئے کوئی سیل موجود ہے یا نہیں، اگر ایسا تھا تو کیا آپ کو مظاہرین کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ کون تھے۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران دھرنے کے مظاہرین کے تنخواہ اور ان کے مالی ذرائع کے حوالے سے بھی سوال و جوابات کیے۔

جسٹس عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں ایجنسی بہت کچھ کر رہی ہیں وہیں یہ پاکستانی عوام کیلئے کچھ نہیں کر رہی ،انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی کے باعث وجود میں نہیں آیا بلکہ یہ عام لوگوں کی جدو جہد کا نتیجہ ہے ۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے ایس آئی ایس آئی سمیت تمام ایجنسیز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بینچ کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو بریف کیا جائے ۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ 15 روز کے اندر تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 اگست کو طلب

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 اگست کو طلب

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے