سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستیں قابل سماعت قرار دیدیں

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف تمام درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلیں۔ عدالت نے نواز شریف سمیت تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف تحریک انصاف، شیخ رشید، جمشید دستی سمیت دیگر کی جانب سے دائر کی گئی جانے والی درخواستوں پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پارلیمنٹ قانون بنانے کی سپریم باڈی ہے، پارلیمنٹ کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے اصول کیا ہیں؟، سپریم کورٹ نے آج تک کتنے قوانین کو کالعدم قرار دیا اور قوانین کالعدم قرار دینے والے عدالتی فیصلوں کی نظیر سامنے لائیں۔

شیخ رشید احمد کے وکیل فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا پارٹی سربراہ بننا ان کا ذاتی مقدمہ ہے، انتخابی اصلاحات ایکٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کی نفی کے لئیے منظور کیا گیا، قانون میں ترمیم کے بجائے نیا قانون لایا گیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپکی جماعت نے قانون کے حق میں ووٹ دیا تھا، فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ایم کیو ایم کے ایک سینیٹر نے ووٹ دیا جس پر قانون منظور ہوا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیٹیکل پارٹیز قوانین میں بہتری کے لیے ترامیم کی ضرورت ہے، اگر کوئی ایسا قانون بنا ہے جس میں پارٹی ارکان کی تعداد مقرر کی گئی تو اچھا قانون ہے، اس قانون سے ٹانگہ پارٹیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری تک تمام تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے نواز شریف سمیت تمام فریقوں سے جواب طلب کرلیا۔ کیس کی سماعت تئیس جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 اگست کو طلب

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 اگست کو طلب

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے