Workers sew garments on the production line of the Protik Apparels garment factory in Dhaka, Bangladesh, on Monday, April 29, 2013. Bangladesh authorities said they were accelerating rescue efforts at the factory complex that collapsed last week as hopes fade for more survivors after the nation's biggest industrial disaster. The government has decided to constitute a panel to identify garment factories in the country at risk of collapse, cabinet secretary Hossain Bhuiyan told reporters on April 29. Photographer: Jeff Holt/Bloomberg via Getty Images

بلند لاگت، برآمدی ہدف میں ناکامی، بیروزگاری پھیلنے کا خدشہ ظاہر

اسلام آباد: گارمنٹس اور ہوزری ایکسپورٹرز نے کاروباری لاگت کم نہ ہونے کے باعث برآمدی ہدف میں ناکامی اور بڑے پیمانے پر بیروزگاری پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کیلیے وزیراعظم سے ملاقات کاوقت مانگ لیا ہے۔

میڈیا کو موصول دستاویز کے مطابق پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پریگمیا) اور پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) کی جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو مراسلہ لکھا گیا ہے کہ 2016-17 میں ٹیکسٹائل برآمدات 12.4ارب ڈالر رہیں، ان برآمدات میں اپیرل سیکٹر نے اہم کر دار ادا کیا، اپیرل سیکٹر کی برآمدات 5ارب ڈالر رہیں۔

مراسلے میں کہا گیا کہ ہوزری مینوفیکچررز اور ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز غیرملکی زرمبادلہ کمانے کے ساتھ روزگار کے مواقع کی فراہمی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس وقت بھی ٹیکسٹائل برآمدات میں ریڈی میڈگارمنٹس اور ہوزری سیکٹر کا حصہ 5ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اپیرل سیکٹر اپنی برآمدات دگنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم شعبے کو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے، اس سلسلے میں کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ مراسلے میں وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیاکہ اپیرل سیکٹر کی ان پٹ کاسٹ کو کم کیا جائے ورنہ ملکی برآمدی ہدف حاصل نہیں ہوگا اور بڑے پیمانے پر ورکرز بھی بیروز گار ہو سکتے ہیں۔ خط میں وزیراعظم سے ملاقات کا وقت بھی مانگا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ روپے سے تجاوز

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ روپے سے تجاوز

کراچی: کورونا وائرس کے باعث ملک میں جیولری کی دکانوں سمیت مقامی مارکیٹس شٹ ڈاؤن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے