Indian Foreign Minister Sushma Swaraj gestures as she addresses media representatives in New Delhi on June 16, 2015, ahead of flagging off a batch of pilgrims on their journey to Mount Kailash. The mountain which is near Lake Mansarovar in Tibet is close to the source of many of Asia's longest rivers, Indus, Brahmaputra, Sutlej and is considered a sacred place by many religions among these is Hinduism, devotees of which belief the mountain to be where Lord Shiva resides in meditation with his wife Parvati. AFP PHOTO/PRAKASH SINGH (Photo credit should read PRAKASH SINGH/AFP/Getty Images)

سوال پوچھنے پہ سشما سوراج نے لوک سبھا کے رکن کو ٹوئٹر پہ بلاک کردیا

نئی دہلی: بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن یادیو اور دیگر معاملات پر سخت سوالات کرنے پر لوک سبھا کے رکن پرتاب سنگھ باجوہ کو ٹویٹر پر بلاک کردیا۔ بھارتی میڈ یا کے مطابق اہل خانہ سے ملاقات میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کے اعترافِ جرم نے جہاں بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کی نیندیں حرام کردی ہیں وہیں وہ شدید تنقید کا نشانہ بن کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہیں، سشما سوراج کبھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کررہی ہیں کبھی اپنے ہی اراکین پارلیمنٹ پر اپنا غصہ نکال رہی ہیں۔سشما سوراج اب بھارتی لوک سبھا کے رکن پرتاب سنگھ باجوہ کے سخت سوالات کا جواب دینے کے بجائے ان سے آنکھیں چرا رہی ہیں اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہیں بلاک کردیا ہے۔

جمعرات کے روز پرتاب سنگھ باجوہ نے بھارتی وزیرخارجہ سے عراق میں 39 بھارتیوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق سوال کیا تھا اور پوچھا تھا کہ افغانستان میں بھی امریکا کے مدر آف آل بمز حملے میں 20 بھارتی باشندے ہلاک ہوگئے تھے اس حوالے سے وزارت خارجہ نے کہاں آوازبلند کی؟۔ پرتاب سنگھ نے کہا کہ بھارتیوں کی گمشدگیوں کے باعث بھارت دہشت گرد گروپ داعش کا اہم معاون ملک سمجھا جارہا ہے،ان تمام سوالات کے جواب دینے کے بجائے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے پرتاب سنگھ کو ٹویٹرپر بلاک کردیا جب کہ پرتاب سنگھ نے بھی سشما سوراج کی جانب سے بلاک کئے جانے کا سکرین شارٹ ٹویٹر پر لگا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

انڈیا سے سعودی عرب کے لیے پروازیں کب شروع ہوں گی

انڈیا سے سعودی عرب کے لیے پروازیں کب شروع ہوں گی

ریاض: سعودی عربین ائیر لائن السعودیہ نے مؤثر خروج عودہ ( ایگزٹ ری انٹری) رکھنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے