اسرائیل کا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کیلئے 10 ممالک سے رابطہ

تل ابیب: اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کے حوالے سے کم از کم 10 ممالک سے رابطے میں ہے۔ اسرائیلی ڈپٹی وزیر خارجہ زیپی ہوٹو ویلز نے سرکاری ریڈیو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کے حوالے سے اسرائیل کم از کم 10 ممالک سے رابطے میں ہے۔

ڈپٹی وزیر خارجہ نے کسی ملک کا نام نہیں لیا البتہ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان 10 ممالک میں سے کچھ یورپین ہیں اور فی الحال ہم ابتدائی مراحل میں ہیں۔ زیپی ہوٹو ویلز نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ دیگر ممالک کو اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد گزشتہ روز گوئٹے مالا نے بھی اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی فیصلے کے خلاف ترکی اور یمن کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی جس کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا اور صرف 9 ملکوں نے قرارداد کی مخالفت کی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قرارداد کی منظوری کے بعد امریکا کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب کہ قرارداد کی منظوری سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلے نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کو دھمکیاں بھی دیں جسے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی بڑی تعداد خاطر میں نہ لائی۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے