پیمرا چیئرمین کے خلاف فیصلے پر حکم امتناع کی درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم کی تقرری کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع کی درخواست کو بھی مسترد کردیا۔

فیصلہ دینے والے جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ وفاقی حکومت اگر سمجھتی ہے کہ فیصلے سے انہیں پریشانی ہوئی ہے تو انہیں انٹرا کورٹ اپیل ( آئی سی اے) دائر کرنی چاہیے کیونکہ ابصار عالم عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔

حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالتی فیصلے کے نفاذ سے پیمرا غیر فعال ہوجائے گا اور عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم کی روشنی میں 30 دن کے اندر نئے چیئرمین کی تقرری ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید اعتراض کیا کہ اگر فیصلے پر حکم امتناع جاری نہیں کیا گیا تو یہ سپریم کورٹ کی جانب سے حامد میر اور فیڈریشن کے حوالے سے دیئے گئے فیصلے پر بھی اثر انداز ہوگا۔

قانونی افسر نے عدالت سے درخواست کی کہ اس فیصلے پر 30 دن کا حکم امتناع دیا جائے۔

ابصار عالم کے خلاف درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ اظہر صدیقی نے حکومتی درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، حکومت اپنے من پسند لوگوں کو بچانا چاہتی ہے۔

جس کے بعد عدالت نے حکومتی درخواست کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ 18 دسمبر کو دیے گئے فیصلے میں چیئرمین پیمرا کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور حکومت کو حکم دیا گیا تھا کہ 30 دن کے اندر نئے چیئرمین کی تقرری کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں

تھانے پر دہشت گرد کے حملے کو ناکام بنا دیا

تھانے پر دہشت گرد کے حملے کو ناکام بنا دیا

لاہور: سی ٹی ڈی حکام کے مطابق دہشت گرد نے برکی روڈ پر سی ٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے