عسکری قیادت کی چارہ جوئی، تحریک جعفریہ اور سپاہ صحابہ کے رہنماؤں کی مشترکہ بیٹھک

اسلام آباد:  پاکستان میں مذہبی بنیاد پر تصادم کو روکنے کیلئے عسکری قیادت کی چارہ جوئی۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنماؤں اورنگزیب فاروقی، احمد لدھیانوی اور کالعدم تحریک جعفریہ کے رہنما علامہ عارف واحدی کی بیٹھک، سیاسی حکومتوں کی ناکامی کے بعد عسکری قیادت نے شیعہ سنی قیادت کو ایک چھت تلے بٹھانے اور فرقہ واریت کا مسئلہ حل کرانے کے لئے فریقین سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں دونوں فریقین نے صحابہ کرام، ازواج مطہرات، اہل بیت اطہار کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی تجویز دی ہے، مذاکرات کے اگلے مرحلے میں دیگر نکات بھی طے کئے جائیں گے۔ دونوں جماعتوں کے رہنما کارکنوں کے سخت ردعمل کی وجہ سے ملاقات میں طے پانے والے نکات بتانے سے گریزاں۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں مذہبی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے اور مذہبی تصادم کو روکنے کے لئے عملی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور ملک میں پہلی مرتبہ یہ کوشش مقتدر اداروں کی طرف سے کی گئی ہے، طویل عرصے کی بیگ ڈور مشاورت کے بعد چند دن قبل اسلام آباد میں ایک چھت تلے شیعہ سنی قیادت کو اکھٹا گیا ہے۔

رکن پنجاب اسمبلی مسرور نواز جھنگوی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں اہل سنت و الجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی، اہل سنت و الجماعت کے صدر اورنگزیب فاروقی، گلگت سے تعلق رکھنے والے قاضی نثار احمد اور اہل تشیع کی طرف سے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل و اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ عارف حسین واحدی، علامہ حمید حسین امامی، مجلس وحدت مسلمین کے نمائندے علامہ امجد عباس نے شرکت کی، جبکہ اس اجلاس میں ان کے علاوہ دربار عالیہ حق باہو کے سجادہ نشین پیر سلطان فیاض الحسن، انصار الامہ پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل، اہل حدیث رہنماء علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر عبدالغفور ر​اشد، پاکستان علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل علامہ شاہنواز فاروقی، معروف دانشور علامہ زاہد الراشدی، جمعیت علماء پاکستان کے رہنماء قاری زوار بہادر، صاحبزادہ سعیدالرشید عباسی و دیگر شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملکی صورتحال پر غور کیا گیا اور قومی وحدت کے لئے تمام اختلافی معاملات باہمی گفت و شنید اور قانون سازی کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ شیعہ سنی معاملات کو آئینی و قانونی طریقے سے حل کیا جائے گا۔ اس موقع پر دونوں اطراف کی قیادت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شیعہ سنی تنازعے کی وجہ سے ملک و قوم کا نقصان ہوا ہے، اس معاملے کو جلد از جلد حل ہونا چاہیئے۔ دونوں اطراف کی قیادت نے مقتدر اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ ہم فوج اور دیگر اداروں پر یقین کرتے ہیں اگر اس طرف مسئلے کے حل کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو ہم اس کا کھلے دل سے خیرمقدم کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری قیادت کی طرف سے دونوں اطراف کی قیادت کو ایک چھت تلے بٹھانا نہایت بڑا اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں

عدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد ضروری ہے لیکن سائلین کا اس نظام سے بتدریج اعتماد ختم ہورہا ہے

عدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد ضروری ہے لیکن سائلین کا اس نظام سے بتدریج اعتماد ختم ہورہا ہے

اسلام آباد: جسٹس عامرفاروق کا کہنا تھا کہ ’چیمبر کا حصہ بننے والے نئے وکیل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے