اسلام آباد مظاہرین کے خلاف آپریشن پرسابق اور موجودہ وزراء آمنےسامنے

اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے شرکاء کے خلاف ہونے والے آپریشن پر سابق اورموجودہ وزیر داخلہ آمنے سامنے آگئے جبکہ آپریشن اور اس کے دوران ہونے والی اموات کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے دونوں سینئر رہنما الجھ پڑے۔

موجودہ وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مذکورہ ہلاکتیں دھرنے کے خلاف آپریشن کے دوران نہیں بلکہ چوہدری نثار کے گھر پر حملے کے دوران جوابی کارروائی میں ہوئیں تھی جبکہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے احسن اقبال کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے بے سروپا بیانات سے گریز کریں۔

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے گھر پر ہلاکت تو درکنار کوئی زخمی بھی نہیں ہوا اور ساتھ ہی موقف اختیار کیا کہ ’کیا یہ وہی وزیر داخلہ ہیں جنہوں نے تین گھنٹے میں دھرنا کلئیر کرانے کا کہا تھا اور اب آپریشن کا سارا بوجھ عدالت پر ڈال رہے ہیں‘۔

وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ فیض آباد میں ہونے والے آپریشن میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا جبکہ انتظامیہ نے عدالتی حکم پرایکشن لیا۔

جس پر چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ ملک کا وزیر داخلہ اتنا بے خبر اور غیر ذمہ دار ہے جبکہ احسن اقبال کے عہدے کا تقاضہ تھا کہ آپریشن پر بہانے بنانے کے بجائے اپنی انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے تھا۔

بعد ازاں چوہدری نثار کے جواب پر احسن اقبال نے سابق وزیرداخلہ سے سوال پوچھ لیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دھرنا ختم کرانے میں کتنا وقت لگ گیا تھا؟

فیض آباد مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن

واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا 7 نومبر سے جاری تھا۔

مذہبی جماعت کا دھرنا ختم کروانے کے عدالتی حکم پر جب انتظامیہ نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا، تو مشتعل افراد نے ملک کے دیگر شہروں میں بھی مظاہرے شروع کر دیئے۔

فیض آباد میں 7 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد اسے معطل کر دیا گیا جبکہ سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔

اہم حکومتی شخصیات کے گھروں پر مظاہرین کے حملے

سیالکوٹ کے قریب پسرور میں واقع وزیر قانون و انصاف زاہد حامد کے گھر پر شام 4 بجے کے قریب تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں کے کارکنان نے حملہ کیا۔

مشتعل مظاہرین نے وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کی جبکہ پتھراؤ سے سیکیورٹی پر مامور اہلکار بھی زخمی ہوئے، جس کے بعد انہوں نے مزید نفری طلب کرلی۔

شیخوپورہ میں مظاہرین کے تشدد سے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف اور ان کے سیکیورٹی انچارج سمیت 3 افراد زخمی ہوئے۔

راولپنڈی میں مشتعل مظاہرین نے سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان کے گھر کا گیٹ توڑ دیا اور باغیچہ کو آگ لگادی تھی۔

چوہدری نثار کے گھر پر تعینات گارڈز نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا اور مظاہرین منتشر ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں

بیان کومتنازع بناکرپیش, کرناکسی, طور پر, پاکستان کی, خدمت نہیں

بیان کومتنازع بناکرپیش کرناکسی طور پر پاکستان کی خدمت نہیں

اسلام آباد: وزیراعظم کی جانب سے ایران میں بیان پر وزیراعظم آفس کی وضاحت سامنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے