حکومت نے گرفتار کارکنوں کی رہائی کیلئے 12 گھنٹے کا وقت مانگا ہے، علامہ خادم رضوی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لیے 12 گھنٹے کا وقت مانگا ہے، 12 گھنٹے میں ہمارے کارکنوں کو رہا کر دیا گیا تو ہم فیض آباد کا دھرنا ختم کردیں گے۔ اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے ملک بھر میں موجود اپنے قائدین سے کہا کہ وہ مختلف شہروں میں جاری دھرنا ختم کر دیں اور کارکنان اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں جبکہ آج کی ہڑتال بھی ختم کرکے دکانیں کھول دی جائیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ 20 روز سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دھرنا جاری تھا جبکہ اس دھرنے کے خاتمے کے لیے حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان 6 نکاتی معاہدہ طے پایا تھا۔ پریس کانفرنس میں خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ ہم لاہور سے صرف اور صرف ختم نبوت کی حفاظت کے لیے چلے تھے، ہمارا مطالبہ تھا کہ وزیر قانون کو برطرف کریں لیکن ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا، ہم پر الزامات لگائے گئے، جن کی کوئی حیثیت نہیں۔

علامہ خادم حسین رضوی نے کہا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے نمائندے بھیجے جن سے معاہدہ کیا گیا اور انہوں نے ہمارے مطالبات پورے کیے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ یہ مطالبات ہمارے شہداء کے خون کی قیمت نہیں ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے جو مطالبات پورے ہوئے ہیں ان کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ علماء کے سامنے بیان دیں گے، اس بیان کی روشنی میں علماء کا بورڈ جو فیصلہ کرے گا اس پر عمل کیا جائے گا۔ علماء بورڈ کے سربراہ پیر محمد افضل قادری ہوں گے، اس کے علاوہ پیر حسین الدین شاہ، مفتی منیب الرحمن ، پیر عنایت الحق شاہ، مفتی سبحان قادری کے سامنے بھی رانا ثناءاللہ پیش ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی سزا یافتہ ناموس رسالت کے قیدیوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر کوئی پابندی عائد نہیں ہو گی جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ ان کی ماں اور بہن کو اعتماد میں لے کر اقدامات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نصاب بورڈ میں تبدیلی کے لیے ہماری تحریک کے 2 نمائندے شامل ہوں گے، جو نصاب میں قرآن کا ترجمہ اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم و اکابرین امت کے اسباق شامل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 9 نومبر کو یوم اقبال کی چھٹی بحال کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کا چہلم جمعرات 4 جنوری کو 10:00 بجے دن لیاقت باغ راولپنڈی میں منعقد ہو گا جبکہ ہر سال 25 نومبر کو شہداء ناموس رسالت کا دن منایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

بیان کومتنازع بناکرپیش, کرناکسی, طور پر, پاکستان کی, خدمت نہیں

بیان کومتنازع بناکرپیش کرناکسی طور پر پاکستان کی خدمت نہیں

اسلام آباد: وزیراعظم کی جانب سے ایران میں بیان پر وزیراعظم آفس کی وضاحت سامنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے