اہلسنت کی 30 جماعتیں کی ہڑتال کی کال

لاہور: سنی اتحاد کونسل کی دعوت پر منعقدہ تیس اہلسنت جماعتوں کے ہنگامی مشترکہ اجلاس میں پیر 27 نومبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دے دی گئی۔ اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تاجر اپنی دکانیں بند کر کے شہدائے ختم نبوت کیساتھ محبت کا ثبوت دیں۔ ختم نبوت کے پروانوں پر گولیاں برسانے والی حکومت کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی۔ شہدائے ختم نبوت کا قصاص اور خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ عید میلاد النبی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے منائی جائے گی، تمام سیاسی جماعتیں حکومت مخالف تحریک ختم نبوت کا ساتھ دیں۔ اہلسنت آئندہ الیکشن میں ن لیگ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس سال عید میلاد النبی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے منائی جائے گی۔ ایک وزیر کو بچانے کے لئے ملک کو آگ میں جھونکا گیا ہے۔ عاشقان رسول پر ظلم کرنے والوں کی نسلیں برباد ہو جائیں گی۔نواز شریف اور شہباز شریف شہدائے ختم نبوت کے قاتل ہیں۔ ایف آئی آر شریف برادران کے خلاف درج ہونی چایئے۔

سنی اتحاد کونسل کے زیر اہتمام اہل سنت جماعتوں کا مشترکہ اجلاس جامعہ رضویہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے کی۔ اجلاس میں جماعت اہلسنت، جمعیت علماء پاکستان نورانی، پاکستان سنی تحریک، مرکزی جے یو پی، نظام مصطفے پارٹی، مرکزی جماعت اہلسنت، انجمن طلباء اسلام، پاکستان مشائخ کونسل، پاکستان فلاح پارٹی، مصطفائی تحریک، تحفظ ناموس رسالت محاذ، تنظیم المساجد اہلسنت، سنی علماء بورڈ، جانثاران ختم نبوت، مرکزی مجلس چشتیہ، سنی یوتھ ونگ، انجمن خدام الاولیا، تحریک فیضان اولیاء، جماعت الصالحین، تحریک فروغ اسلام، انجمن طلباء مدارس عربیہ، تحریک نفاذ فقہ حنفیہ، ادارہ المصطفے، مصطفائی جسٹس کونسل اور دوسری اہل سنت جماعتوں کے مرکزی راہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ شہدائے ختم نبوت کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلنے دیں گے۔ قاتل حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔ فیض آباد میں سانحہ ماڈل ٹاؤن دہرایا گیا۔ حکومت نے ایک چوک کھلوانے کیلئے پورا ملک بند کروا دیا۔ اجلاس سے مفتی حبیب قادری، بیرسٹر صاحبزادہ حسین رضا، پیر میاں غلام مصطفے، علامہ حامد سرفراز قادری، سید جواد الحسن کاظمی، ملک بخش الہی، مولانا محمد اکبر نقشبندی، مفتی مشتاق احمد نوری، مولانا محمد علی نقشبندی، امانت علی زیب، محمد اکرم رضوی، مفتی وسیم رضا، علامہ ارشد جاوید مصطفائی، صاحبزادہ مطلوب رضا، راؤ حسیب احمد اور دیگر نے خطاب کیا۔ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ گرفتار کئے گئے اہل سنت راہنماؤں اور کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ ختم نبوت حلف نامہ تبدیل کرنے کی سازش کے تمام کردار بے نقاب کر کے انھیں عبرت کا نشان بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

وکلا کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ کرنے کی، لاہور ہائیکورٹ

وکلا کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ کرنے کی، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وکلا کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے