ٹی وی نشریات بند ہونے تک یہ نقصان نہیں ہوا تھا مگر اب۔۔۔ معروف صحافی سلیم صافی نے بھی لب کشائی کر دی

اسلام آباد: سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے چینل نشریات اور سوشل میڈیا کی بندش کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ ہونے سے پہلے تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن اب لوگ عجیب سی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں تو اب عجیب و غریب افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ حکومت نے آپریشن شروع کیا تو شائد سارا معاملہ قابو میں آ جاتا مگر انہوں نے چینل اور انٹرنیٹ بند کر کے خود ہی منفی پیغام دیدیا ہے کہ جیسے قیامت آ گئی ہو اور اب ہر پاکستانی تشویش میں مبتلا ہو چکا ہے، حکومت نے تو بالکل الٹا کام کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کچھ کرنا ہی تھا تو بہت پہلے کیا جانا چاہئے تھا، مثلاً جب مظاہرین گھروں سے نکل رہے تھے تو اس وقت انٹیلی جنس رپورٹس بھی ہوں گی تو پنجاب حکومت نے انہیں آنے ہی کیوں دیا؟ پھر جب یہ اسلام آباد آ گئے اور وہاں دھرنا دیدیا تو اس کے بعد سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلاتے رہے اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی استعمال کرتے رہے، مگر اس دوران حکومت نے کوئی بھی روک ٹوک نہ کی گئی اور جس طرح وہ پروپیگنڈا کرنا چاہتے تھے اور جو باقی لوگ کرنا چاہ رہے تھے وہ انہوں نے بھرپور طریقے سے کر لیا۔

آج جب ان کیخلاف کارروائی کی گئی اور میڈیا پر دکھایا جا رہا تھا تو خوش آئند بات یہ تھی کہ پولیس کو بندوق استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی اور نشریات بند ہونے تک ایک انسانی جان بھی ضائع نہیں ہوئی تھی لیکن اب حکومت نے جو کر دیا ہے، اس کی وجہ سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے اندر اس طرح یکدم چینلوں کو بند کرنے سے لوگوں کے ذہنوں میں عجیب طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور عوام غیر یقینی سی صورتحال کا شکار ہیں، وہ سوچ رہے ہیں کہ اب پتہ نہیں کیا ہو گا، حکومت نے چینل نشریات اور انٹرنیٹ بند کر کے دھرنے والوں کی مدد کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سائبر کرائم میں شہریوں کی شکایتوں پر سست روی سے کام کرنا کیوں مشکل ہورہا ہے

سائبر کرائم میں شہریوں کی شکایتوں پر سست روی سے کام کرنا کیوں مشکل ہورہا ہے

اسلام آباد: سینٹرز کے امور ڈپٹی ڈائریکٹر چلارتے ہیں، سی سی آر سیز ایک زون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے