نواز شریف سے میرا موازنہ سلطانہ ڈاکو سے کرنے کے مترادف ہے، عمران خان

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے موازنہ کرنا میری توہین ہے اور ایسا ہی ہے جیسے سلطانہ ڈاکو سے موازنہ کیا جائے۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پیش ہوئے، عدالت میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے موکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ جج شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ کیا ضمانت قبل از گرفتاری میں استثنیٰ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ ٹرائل بہت اہم ہے لیکن استثنیٰ مل سکتا ہے، ایف آئی آر میں عمران خان پر صرف اشتعال دلانے اور للکارنے کا الزام ہے۔ عمران خان کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست پر سرکاری وکیل چوہدری محمد شفقت نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری میں ملزم کو استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا، جب کہ ملزم عمران خان عدالتی حکم کے باوجود شامل تفتیش نہیں ہوئے۔ عمران خان نے کسی کے ہاتھ تفتیش کے لیے ایک کاغذ بھجوایا تھا۔ اس موقع پر بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان نے اپنا تحریری بیان تفتیشی افسر کو جمع کرایا ہے، سرکاری وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہونا ضروری تھا جہاں سوال و جواب ہونے تھے۔ عدالت نے عمران خان کی ضمانت قبل ازگرفتاری میں 7 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے عمران خان کو کیس میں شامل تفتیش ہونے اور چاروں مقدمات میں بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا، عدالت نے کیس کی سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کردی۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تھانے میں جانے کے لیے بھی تیار ہوں لیکن نواز شریف پاکستان کی عدلیہ، فوج اور اداروں پر حملہ کر رہا ہے، ہم اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا دھرنا سیاسی تھا، ووٹ کے تقدس کو نقصان ہو رہا تھا، دھاندلی کی بنا پر دھرنا دیا تاہم یہ ایسے مقدمات سے ہمارا منہ بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مقدمات سے جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف سے موازنہ کرنا میری توہین ہے، نوازشریف سے میرا موازنہ کرنا ایسا ہے جیسے سلطانہ ڈاکو سے جب کہ پاکستان کا پیسہ باہر لے کر جانے والا چور ہے، نوازشریف 300 ارب روپے کی 29 جائیدادوں کا حساب دیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی ایک چور کو بچا رہے ہیں جب کہ قوم کو مقروض بنانے والا پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے۔ صحافی کی جانب سے سوال پر کہ سابق صدر پرویز مشرف عدالتوں میں کیوں پیش نہیں ہورہے، عمران خان نے کہا کہ میں نواز شریف سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے پرویز مشرف کو کیوں نکالا اور کیوں جانے دیا۔

یہ بھی پڑھیں

بیان کومتنازع بناکرپیش, کرناکسی, طور پر, پاکستان کی, خدمت نہیں

بیان کومتنازع بناکرپیش کرناکسی طور پر پاکستان کی خدمت نہیں

اسلام آباد: وزیراعظم کی جانب سے ایران میں بیان پر وزیراعظم آفس کی وضاحت سامنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے