افغانستان کا 43 فیصد علاقہ داعش کی محفوظ پناہ گاہیں

اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کا 43 فیصد علاقہ داعش اور دیگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور جماعت الاحرار افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور افغانستان کا 43 فیصد علاقہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث تنظیموں کے بھارتی خفیہ ادارے را کے ساتھ روابط کے ثبوت موجود ہیں جبکہ را کی سرگرمیوں کا معاملہ افغان حکام کے ساتھ اٹھایا جاچکا ہے۔

افغانستان میں منشیات کی پیداوار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ اففانستان میں افیون کی کاشت دنیا کے لیے خطرہ ہے کونکہ منشیات و افیون کی پیداوار سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی کی مالی امداد میں استعمال ہوتی ہے’۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی جارحیت خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں’۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جارہا ہے اور آئندہ بھی ہر فورم پر ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کی ملاقات کا جواب موصول ہوا ہے جس میں ان کی اہلیہ کے ساتھ ساتھ کلبھوشن یادیو کی والدہ کی ملاقات کرانے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت کی جانب سے کی گئی درخواست پرغور کیا جارہا ہے’۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ‘بھارت کی جانب سے میڈیکل ویزے کا حصول تقریبا ناممکن بنا دینا قابل افسوس ہے، انسانی ہمدردی کے معاملے پر سیاست قابل مذمت ہے’۔

وزیر اعظم کے سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں وزیر اعظم کے سعودی عرب کے دورے کا علم نہیں ہے’۔

پاکستان کا ساتھ دینے پر جماعت اسلامی کے 6 ارکان کو بنگلہ دیش میں سزائے موت سنائے جانے پر ترجمان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں خود ساختہ جنگی جرائم کے ٹریبیونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے 6 اراکین کو سزائے موت دیئے جانے پر ہمیں تحفظات ہیں۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس نے حال ہی میں ایک بل منظور کیا ہے جس میں پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں مشروط ادائیگیوں کی بات کی گئی تھی جبکہ امریکی سیکریٹری دفاع جمیز میٹس کا دورہ پاکستان آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دورے کے دوران کثیر الجہتی امور پر بات چیت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

سائبر کرائم میں شہریوں کی شکایتوں پر سست روی سے کام کرنا کیوں مشکل ہورہا ہے

سائبر کرائم میں شہریوں کی شکایتوں پر سست روی سے کام کرنا کیوں مشکل ہورہا ہے

اسلام آباد: سینٹرز کے امور ڈپٹی ڈائریکٹر چلارتے ہیں، سی سی آر سیز ایک زون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے