داعش کے خلاف فوجی فتح تنظیم کے خاتمے کا مفہوم نہیں رکھتی: جان کوبیس

بغداد: اقوام متحدہ کے عراق کے لئے نمائندہ خصوصی جان کوبیس نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف فوجی فتح حاصل ہونے کے باوجود تنظیم ابھی تک ایک خطرے کے طور پر اپنی موجوگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کوبیس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ،عراق میں داعش کی شکست اور ملکی حالات کے بارے میں، رکن ممالک کو بریفنگ دی۔ کوبیس نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش سال 2014 سے لے کر اب تک عراق اور شام میں اپنے زیر کنٹرول علاقے کے 95 فیصد سے محروم ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں تنظیم کی شکست سے 7.5 ملین افراد کو آزادی نصیب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، برین واشنگ کے شکار سینکڑوں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے، شہر مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور 6 ملین افراد گھر سے بے گھر ہو گئے۔ داعش کے ،ہزاروں مسلمانوں اور اقلیتی گروپوں کے خلاف جنگی جرائم اور نسلی کشی کا مرتکب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کوبیس نے کہا کہ داعش کے خلاف فتح حاصل کرنے کے باوجود عراق میں، علاقے میں ، یورپ میں اور اس سے آگے تک دہشت گردی کا خطرہ ابھی تک موجود ہے۔ جان کوبیس نے کہا کہ داعش دنیا کی کسی بھی جگہ پر شہریوں کے خلاف اندھا دھند حملے کر سکتی ہے۔ داعش کو شکست ہوئی ہے لیکن وہ ختم نہیں ہوئی لہٰذا میں داعش کے خلاف جد و جہد کرنے والی کولیشن فورسز، علاقائی ممالک اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ داعش کے مکمل خاتمے کے لئے اور عراق اور علاقے میں قیام استحکام کے لئے عسکری و غیر عسکری کوششوں کو جاری رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں

واضح اکثریت کے, ساتھ, آئینی تبدیلی کو, منظور کیا

واضح اکثریت کے ساتھ آئینی تبدیلی کو منظور کیا

مصر: آئینی ترمیم کے لیے گزشتہ تین روز سے جاری ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے