فوج ریاستی ادارہ ہے، دھرنے کے بارے میں حکومتی فیصلے پر عمل کریں گے، جنرل آصف غفور

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان ریاست کا ادارہ ہے اور دھرنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے، حکومت وقت نے جب بھی فوج کو بلایا ہے فوج نے ذمہ داری ادا کی، صورتحال افہام و تفہیم سے حل ہوجائے تو بہتر ہے، تاہم دھرنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ شہداء ہمارے خاندان کا حصہ ہوتے ہیں، ہم ان کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ آسان نہیں، پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہورہے ہیں اور یہ آپریشن خفیہ اداروں کی اطلاعات پر ہورہے ہیں، آنے ولے دنوں میں یہ آپریشن مزید بہتر ہوگا، قوم کی حمایت کے بغیر کوئی بھی فوج کامیاب نہیں ہوسکتی، افغانستان کی حالت سب کے سامنے ہے، افغانستان صورتحال میں وہاں کی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے، اسی وجہ سے وہاں سیکیورٹی خلاء ہے، افغانستان کی سرحد کے گرد باڑ لگائی جارہی ہے، جب تک دوسری طرف سےاقدامات نہیں ہوتے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ سیاسی صورت حال اور سیاست دانوں کے بیانات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاست کا اپنا ایک دائرہ کار ہے، سیاسی عمل چلتا رہنا چاہئے، سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ جیسے کرتے ہیں انہیں کرنا چاہئے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اس کی والدہ سے ملنے سے متعلق ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دفتر خارجہ نے بیان دے دیا ہےکہ انسانیت کے ناطے حکومت اگر ملنے کی اجازت دے تو کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس کے ساتھ جو ہونا ہے وہ ہوگا اس لیے کلبھوشن کا اپنی والدہ سے ملنے میں کوئی حرج نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فضل الرحمان کرپشن کا دفاع کرنے جا رہے ہیں

فضل الرحمان کرپشن کا دفاع کرنے جا رہے ہیں

اسلام آباد: فیصل آباد سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فرح حبیب نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے