سندھ کے تفتیشی ادارے قاتلوں کو سزا دلانے میں بری طرح ناکام

کراچی: سندھ میں 10 برس کے کریمنل کیسز کا ریکارڈ پولیس اور پراسیکیوشن کے منہ پر طمانچہ ہے، تفتیشی ادارے قاتلوں کو سزا دلانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ کے مرتب کردہ ریکارڈ نے پولیس اور پراسیکیوشن کا کچا چٹھا کھول دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے صوبے بھر کی ماتحت عدالتوں میں قتل کے مقدمات میں فیصلوں سے متعلق 10 سالہ کارکردگی رپورٹ مرتب کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں 10 سال کے دوران قتل کے 27 ہزار مقدمات درج ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 52 فیصد مقدمات میں تمام ملزمان بری ہوگئے، 12916 مقدمات میں عدم ثبوت کی بناء پر ملزمان بری ہوئے جب کہ صوبے بھر میں قتل کے مقدمات میں محض 7 فیصد کیسز میں سزائیں مل سکیں، قتل کے صرف 1684 مقدمات میں سزائیں ہوئیں، 13 فیصد مقدمات میں فریقین کے درمیان صلح ہوئی، جبکہ 28 فیصد مقدمات ملزمان کی عدم گرفتاری کے باعث سرد خانے میں ڈال دیئے گئے ہیں۔
رواں سال صوبے میں قتل کے مقدمات کی تعداد گذشتہ 10 سالوں کے مقابلے میں کم ترین ہے۔ 2017ء کے پہلے 6 ماہ کے دوران صوبے بھر میں 1050 قتل کے مقدمات درج ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ایک عشرے کے دوران 2011ء سب سے قاتل سال رہا، 2011ء میں 3208 مقدمات درج ہوئے جب کہ صوبے بھر کی عدالتوں میں اس وقت قتل کے 5489 مقدمات زیر التواء ہیں۔ کراچی کے ضلع جنوبی اور ضلع نوشہرو فیروز میں 10 سال کے دوران قتل کے مقدمات میں 65 فیصد ملزمان بری ہوئے اور ضلع غربی میں قتل کے 52 فیصد مقدمات عدم ثبوت کی بناء پر سرد خانے کی نظر ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

عجیب بات, ہے کہ خود, حکومت بجٹ پر, بحث نہیں, چاہتی

عجیب بات ہے کہ خود حکومت بجٹ پر بحث نہیں چاہتی

کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے باہر سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے میڈیا سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے