اگر ریاست ہمارے خلاف کارروائیوں سے باز نہ آئی تو خود ریاست سوالیہ نشان بن جائیگی، علامہ ساجد نقوی

بھکر: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ تشیع کے بارے میں غلط فہمیاں موجود ہیں، گذشتہ سال یہاں کئے گئے خطاب میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، جو لوگ رپورٹ کرتے ہیں اُنہوں نے انصاف نہیں کیا، میں کسی کو کبھی دھمکی نہیں دیتا، کیونکہ دھمکی وہ دیتا ہے جو کمزور ہو، میں کمزور نہیں ہوں، میں اس ملک کا ایک طاقتور اور آزاد شہری ہوں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے امام بارگاہ قصر زینب بھکر میں تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما اور اسلامی تحریک کے مرکزی نائب صدر سید وزارت حسین نقوی کی برسی کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ تشیع ایک فکر اور نظریئے کا نام ہے، نظریہ کبھی اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں رُک سکتا، تم نے دیکھ لیا کہ تشیع کے خلاف کروڑوں روپے خرچ کئے گئے، لیکن تشیع اُس سے بھی زیادہ کامیاب ہوئی ہے، کونسی سازش ہے جو تشیع کے خلاف نہیں کی گئی، ہم نے میدانوں سے لے کر ایوانوں تک ان سازشوں کا مقابلہ کیا، اُنہوں نے مزید کہا کہ تشیع کا بدن مضبوط ہے، عزاداری سیدالشہداء کا نظام مضبوط ہے، اس میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کی جاسکتی، مجالس عزا کرانے والوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی جا رہی ہیں، میں اُنہیں کہتا ہوں کہ ان سے باز آجائیں، مجالس عزاء کے انعقاد کے لئے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، مجالس عزاء کی سکیورٹی کے لئے ایسے اقدامات کرنا جن سے عزاداری میں کمی ہو، ان کے حق میں نہیں ہوں۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ میں اس ملک کا آزاد، مالک اور مختار شہری ہوں، مجھے اس ملک میں حسینؑ، حسینؑ کرنے کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، پاکستان کی اساس اور آئین میں عزاداری کا وجود شامل ہے، پاکستان کا آئین ہمیں عزاداری سیدالشہداء کا حق دیتا ہے، ہمارے خلاف ایف آئی آرز کا اندراج ہمارے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے، ہمارے خلاف ایف آئی آرز درج کرنا بند کرو، میرے حقوق کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر اس کام سے باز نہ آئے تو خود ریاست سوالیہ نشان بن جائے گی، پنجاب انتظامیہ کو متنبہ کر رہا ہوں کہ مجالس عزاء کے انعقاد پر ایف آئی آرز کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ زیارات مقامات مقدسہ پر جانا ہمارا بنیادی حق ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے حقوق پورے کئے جائیں، ہم نے ہزاروں قافلے اس سال بھی گزارے ہیں، ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واپسی پر تمام زائرین کو سہولیات فراہم کی جائیں، ہم زیارات کے اس راستے کو کسی صورت ترک نہیں کریں گے، بھول جائو کہ ان حربوں سے تشیع کو کمزور کر پائو گے، اپنی مجالس میں ایسی باتوں سے اجتناب کریں، جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ میں پاکستان میں اتحاد کا بانی ہوں، ہم نے اپنی حکمت اور دانائی سے تکفیریت کو گندگی کے ڈھیر پر پہنچا دیا ہے، ہم آج 28 جماعتوں کی سربراہی کر رہے ہیں، اس ملک میں امن و امان کو قائم کرنا میری ذمہ داری ہے، میں اس ملک میں نمائندہ ولی فقیہ ہوں، ہم نے اس ملک میں اتحاد و وحدت کو فروغ دیا ہے، اگر اس ملک میں دھرنے، ریلیاں، احتجاج ہوسکتے ہیں تو عزاداری سیدالشہداء کیوں نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی پڑھیں

بینکنگ کورٹ کی, عمارت میں, اچانک آگ, بھڑک اٹھی

بینکنگ کورٹ کی عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی

لاہور : جمعرات کو  مال روڈ پر واقع بینکنگ کورٹ کی عمارت میں گراونڈ فلور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے