شام میں جزوی جنگ بندی کا آغاز

شام کے شہر حلب کے علاوہ ملک کے بیشتر حصوں میں ’ امن کی حکومت‘ کہی جانے والی جزوی جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے لیکن گذشتہ روز ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 26 افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

شام کی فوج کی جانب سے جزوی جنگ بندی پر عمل کا اعلان جمعے کی نصف شب کے ایک گھنٹے کے بعد دو علاقوں میں عمل میں آیا۔

اعلان کے مطابق یہ جزوی جنگ بندی شام کے دارالحکومت دمشق اور مضافاتی علاقے غوطہ میں 24 گھنٹے تک جاری رہے گی۔

 

شامی فوج کی جانب سے لڑائی میں عارضی جنگ بندی کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

حکومتی اہلکاروں کے مطابق باغیوں کی جانب سے حلب میں حکومت کے زیر کنٹرول مغربی علاقے میں واقع مسجد پر اس وقت گولے داغے گئے جب لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے نکل رہے تھے۔

باغیوں کے اس راکٹ حملے میں اطلاعات کے مطابق 15 نمازی مارے گئے۔

اہلکاروں کے مطابق باغیوں نے باب الفرج میں قائم ملا خان مسجد کو نشانہ بنایا جس میں بہت ہلاکتیں ہوئیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق متعدد افراد شدید زخمی ہوئے اور ان کے بچنے کی امید کم ہے۔

دوسری جانب باغیوں کے قبضے والے مشرقی علاقے پر حکومت کی جانب سے ہونے والے فضائی حملے میں 11 افراد ہلاک جبکہ ایک طبی مرکز تباہ ہو گیا ہے۔ خیال رہے کہ ایک ہفتے میں حملے کی زد میں آنے والا یہ دوسرا طبی مرکز تھا۔

اطلاعات کے مطابق رہائشی علاقوں میں کروڈ بیرل بم پھینکے گئے ہیں اور امدادی کارکنوں کو ہلاکتوں سے نمٹنے میں دشواری ہے۔

 

یہ جنگ بندی امریکہ اور روس کے درمیان اعلی سطحی رابطے کا نتیجہ ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے دونوں ممالک پر اس کے لیے زور دیا تھا اور دیگر ممالک کو وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

تہران: ایرانی رضاکار فورس بیسج (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے