بنگلہ دیش میں توہین مذہب کےنا م پر 2 ہندو اساتذہ کو سزا

جنوبی بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے اسلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز تبصروں پر 2 اساتذہ کو سزا سنا کر جیل بھیج دیا۔

مجسٹریٹ انور پرویز نے امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کو بتایا کہ کیس اُس وقت درج ہوا جب ضلع بغیرہت میں واقع ہِجلہ ہائی اسکول کے طلبہ نے شکایت درج کروائی کہ اتوار کو سائنس کے اسسٹنٹ ٹیچر نے قرآن پاک کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جنت کوئی چیز نہیں ہے۔

انور پرویز کا کہنا تھا کہ منگل کو طلبہ، ان کے والدین اور گاؤں والوں نے اسلام کی توہین کرنے والے دو ہندو اساتذہ پر لاٹھیوں سے حملہ کردیا اور پولیس کے آنے تک انہیں زبردستی ایک کمرے میں بند کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ ٹیچر کو عوامی سطح پر مذہب کی توہین کا مجرم ٹھہرایا گیا، جس کے بعد انہیں اور اسکول کے ہیڈ ٹیچر کو 6 ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

تہران: امریکا کی جانب سے ایرانی ڈرون گرائے جانے کے صدر ٹرمپ کے دعوے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے