مسلمانوں کی کم نمائندگی کی وجہ کیا ہے؟

انڈیا میں اقلیتی امور کی وزیر نجمہ ہبت اللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے اعدادو شمار بارے میں تفصیل طلب کی ہے۔

وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کی پسماندگی کے لیے بی جے پی نہیں، بلکہ سابقہ حکومتیں ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے کہا: ’نریندر مودی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر سرکاری ملازمتوں اور سروسز (فوج) میں مسلمانوں سمیت اقلیتی برادریوں کے کتنے لوگ کام کر رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’مودی یہ جاننا چاہتے ہیں مسلمانوں کی کم نمائندگی کی آخر وجہ کیا رہی ہے؟‘

کئي دہائیوں تک کانگریس پارٹی سے وابستہ رہنے والی رہنما اور اب بی جے پی کی سینیئر وزیر نجمہ ہبت اللہ کا خیال ہے کہ انڈیا کے اقلیتی فرقوں پر جتنی توجہ دی جانی چاہیے تھی اس سے کہیں کم دی گئی ہے۔

نھوں نے کہا: ’میرے پاس وزارت حج بھی ہے اور میری مشکل کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ میں گذشتہ کئی دنوں سے ایک جوائنٹ سیکریٹری جیسے سینیئر افسر کی تلاش میں ہوں کیونکہ حج کا معاملہ ہے جس کے لیے وہاں آنا جانا بھی ہوگا اور اس لیے مجھے ایک مسلمان افسر چاہیے جو کہ مجھے تلاش کرنے پر بھی نہیں مل پا رہا ہے۔‘

نجمہ ہبت اللہ نے ان الزامات کی بھی تردید کی ہے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اقلیتی برادریوں میں تحفظ کے معاملے پر مبینہ بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2005 میں منموہن سنگھ کی یو پی اے حکومت نے جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے بھارت میں اقلیتوں کی سماجی اور سرکاری نمائندگی پر ایک رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی تھی۔

سنہ 2006 میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق بیوروکریسی میں مسلمانوں کا فیصد صرف 2.5 فیصد تھا جبکہ اس وقت ہندوستان کی آبادی میں ان کا حصہ 14 فیصد سے بھی زیادہ تھا۔

اس رپورٹ کے آٹھ سال بعد جے این یو کے پروفیسر امیتابھ کنڈو کی قیادت میں ایک دوسری کمیٹی کا قیام ہوا تھا جس نے سنہ 2014 اکتوبر میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

انڈیا میں اقلیتی برادری کے حالات کا تجزیہ پیش کرنے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اقلیتوں پر سرکاری توجہ میں اضافہ ہوا ہے لیکن ابھی بھی وہ ناکافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

واضح اکثریت کے, ساتھ, آئینی تبدیلی کو, منظور کیا

واضح اکثریت کے ساتھ آئینی تبدیلی کو منظور کیا

مصر: آئینی ترمیم کے لیے گزشتہ تین روز سے جاری ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے