علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فائرنگ، دو طلبا ہلاک

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں قائم معروف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس میں طالب علموں کے دو گروپس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں ریپڈ ایکشن فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

انڈیا کی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق فائرنگ اور ہلاکت کے بعد وہاں کشیدگی پائی جاتی ہے اور وہاں کے ہاسٹلوں میں ’اہم کلین اپ آپریشن‘ جاری ہیں۔ جبکہ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ایک استاد نے پیر کو بتایا کہ پہلے سراسیمگی تھی لیکن اب حالات قابو میں ہیں۔

یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پی آر او ذیشان احمد کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ سنیچر کی شب کا ہے۔

طالب علموں کے درمیان اس جھڑپ کی وجوہات کے بارے میں فی الحال یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی معلومات نہیں دی ہے۔

ایس پی سٹی انشول گپتا نے 

بتایا کہ ہفتے کو طلبہ کے دو گروپس میں کسی معاملے پر کشیدگی بڑھ گئي اور وہ پراکٹر کے دفتر میں شکایت کرنے پہنچے۔ لیکن اس کے بعد شام کو کیمپس کے اندر ہاسٹل کے پاس جھڑپ ہوئی اور فائرنگ میں دو طالب علموں کو گولی لگی۔

ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ اے ایم یو ہاسٹل میں ایسے کئی طالب علم رہ رہے ہیں جنھیں وہاں سے نکالا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جس طالب علم کی موت ہوئی ہے وہ ابھی بھی یونیورسٹی کا طالب علم ہے یا نہیں اس بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

بہر حال پی ٹی آئي کے مطابق سابق طلبہ کی اسی رات موت ہو گئی تھی جبکہ دوسرے طالب علم کی اتوار کو ہسپتال میں موت ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کی بازگشت سنائی دی۔

علی گڑھ کے ایک سابق طالب علم اور صحافی زین شمسی نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا: ’ایک طرف جہاں ہندوستان کے تمام مسلمانوں پر دشمنوں کی یلغارہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا علاقائی تعصب کی آگ میں جل مرے ہیں۔ سرکار علی گڑھ کو مسلمانوں سے چھیننا چاہتی ہے۔ اس وقت اتحاد کی ضرورت تھی تو طلبا آپس میں یوں لڑے جیسے برسوں کی دشمنی ہو۔‘

خیال رہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے سلسلے میں تنازع جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فقط تہران حکومت ہی کے لیے تنبیہ نہیں بلکہ خطے میں امریکی اتحادی ممالک کے لیے یقین دہانی بھی ہے

فقط تہران حکومت ہی کے لیے تنبیہ نہیں بلکہ خطے میں امریکی اتحادی ممالک کے لیے یقین دہانی بھی ہے

واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے تحمل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے