روسی صدر نے پاناما لیکس کو امریکا کی سازش قرار دے دیا

ماسکو: روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ پاناما لیکس میں ہونے والے انکشافات درست ہیں لیکن انہیں منظر عام پر لانے میں امریکا کی سازش ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر نے عوام سے  ٹیلی فونک بات چیت پر پاناما لیکس کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس کا معاملہ بظاہر بہت عجیب لگتا ہے لیکن انہوں نے آف شور کے متعلق کوئی غلط خبر نہیں دی ہے اور وہ معلومات درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام معلومات نہ صرف صحافیوں نے جمع کی ہیں بلکہ اس میں وکیلوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ پاناما لیکس کی رپورٹیں کسی خاص شخص کو مخصوص کام کی ذمے دار نہیں ٹھہراتیں بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کس قدر گدلا ہے، اس سے امکان ہے کہ آف شور کی رقم صدر سمیت کئی آفیشلز تک فراہم کی جاتی ہیں۔ پیوٹن نے الزام لگایا کہ ان رازوں کے افشا ہونے میں امریکی حکام نے کام کیا جسے انہوں نے ’’اشتعال انگیز اقدام‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات پر اثر انداز ہونا تھا۔

واضح رہے کہ پاناما پیپرز میں روسی صدر کے قریب دوست سرگائی رولڈوگِن پر’دو ارب ڈالرز کی ممکنہ ہیر پھیر‘ کا الزام لگایا گیا تھا جو جعلی کمپنیوں اور بینکوں کے ذریعے ممکن بنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ کو سرطان لاحق ہو گیا ہے، الہان عمر

امریکہ کو سرطان لاحق ہو گیا ہے، الہان عمر

امریکی ایوان نمائندگان کی مسلم رکن نے ملک کی موجودہ صورت حال کو سرطان زدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے