نواز شریف کی غیر موجودگی میں اسحاق ڈار حکومتی ٹیم کے کپتان مقرر

وزیراعظم نوازشریف کی عدم موجودگی میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار مملکت کے اہم اورفوری نوعیت کے امور نمٹائیں گے ۔ اس دوران اسحاق ڈار کپتان ہوں گے اور محترمہ مریم نواز ان کی معاون ہوں گی۔ ڈار صاحب فوری اور ضروری فیصلہ سازی کے مجاز ہوں گے اور کوشش یہ ہو گی کہ لندن میں قیام کے دوران وزیراعظم کو ڈسٹرب نہ کیا جائے جبکہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد بھی ضروری اور فوری نوعیت کےک معاملات میں اسحاق ڈار سے ہی ہدایات لیں گے جبکہ دیگر سیاسی شخصیات بھی وزیرخزانہ کے ذریعے ہی نوازشریف سے رابطہ کرسکیں گی ۔

نواز شریف لندن کے دورے میں ان ڈاکٹرز سے رجوع کریں گے جنہوں نے پانچ سال قبل ان کی ہارٹ سرجری کی تھی اس دوران نواز شریف کے تفصیلی طبی معائنے بھی ہوں گے۔وزیراعظم ابتدائی پروگرام کے مطابق کم از کم ایک ہفتہ لند ن میں قیام کریں گے لیکن ان کے قیام کی مدت کادارومدار ان کے طبی معائنوں پر ہوگا ۔ آج ان کے طبی معائنے شروع ہو جائیں گے جو پیر اور منگل تک جاری رہیں گے۔
وزیراعظم سے متعلق تمام فوری معاملات پر اسحاق ڈارہی رہنمائی کریں گے ،تمام معاملات میں اسحاق ڈار کو محترمہ مریم نواز شریف کی بھرپور معاونت حاصل رہے گی، اس وجہ سے اسحاق ڈار نے اپنا اہم دورہ واشنگٹن منسوخ کیا ہے۔ وزیراعظم کیلئے کوئی قائم مقام وزیراعظم نہیں ہوسکتا ، وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے سے جو نظام بناکر گئے ہیں وہ انتہائی غیر رسمی ہے۔ کوئی آرڈر یا نوٹیفیکیشن کی صورت میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں دی جاسکتی یقینا یہ ہمارے نظام حکومت میں بڑا سقم ہے کہ وزیراعظم کی دستیابی کی صورت میں کوئی متبادل نظام موجود نہیں ۔ اسحاق ڈار کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتے ، وزیراعظم کا انتظار کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمانی, نظام میں بہت, سمجھوتے کرنا, پڑتے ہیں

پارلیمانی نظام میں بہت سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں

اسلام آباد: مؤثر حکومت کے لیے اہل لوگوں کو حکومت میں شامل کرنے کا اختیار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے