برازیل: ’سابق صدر پر مقدمہ سپریم کورٹ خود سنے گی‘

برازیل کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ سابق صدر لولا دا سلوا کے خلاف سیاسی طور پر انتہائی حساس بدعنوانی کا مقدمہ خود سنے گی۔

انسداد بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد یہ مقدمہ ایک وفاقی جج کے پاس جاتا۔

حال ہی میں وفاقی جج سرگیگو مورو کی جانب سے ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت تحقیقات کے آغاز کے بعد مسٹر لولا کی صدر جیلما روسیف کی کابینہ میں رکنیت معطل کر دی گئی تھی۔

خود جیلما روسیف کو بجٹ میں بے ضابطگیوں کے الزام میں مواخذے کا سامنا ہے۔

تاہم برازیل کے 30 سے زائد شہروں میں ان کے لاکھوں حامی لال جھنڈیاں لیے ان کے حق نکلے ہیں۔

حزبِ مخالف کے قانون ساز چاہتے ہیں کہ صدر جیلما روسیف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے کیونکہ انھوں نے بڑھتے ہوئے خسارے کو چھپانے کے لیے حساب کتاب میں ہیر پھیر کی۔

برازیل کے سابق صدر لوئیز لولا ڈی سلوا دو مرتبہ برازیل کے صدر منتخب ہوئے تھے اور انھوں نے یہ عہدہ سنہ 2011 میں چھوڑا تھا۔

اس سے قبل سابق صدر کے گھر پر پولیس نے چھاپہ بھی مارا تھا۔ اس کے علاوہ ساؤ پاؤلو میں واقع ان کے انسٹیٹیوٹ اور ان کے ایک بیٹے فیبیو لوئیز سے متعلقہ عمارتوں کی بھی تلاشی لی گئی۔

اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی ادارے اس رخ پر تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس آپریشن کا ہدف بننے والی تعمیراتی کمپنیوں نے ممکنہ طور پر صدر لولا کی رینچ کی تعمیر کے اخراجات ادا کیے ہوں گے۔

آپریشن کار واش کے دوران برازیل میں سیاست دانوں سمیت درجنوں افراد کو یا تو حراست میں لیا گیا ہے یا ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں

یہ بھی پڑھیں

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

تہران: ایرانی رضاکار فورس بیسج (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے