ناصر شیرازی کا اغواء پنجاب حکومت کی گڈگورننس کے منہ پر طمانچہ ہے، اعجاز چودھری

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور چیئرمین عمران خان کے مشیر اعجاز چودھری نے لاہور میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنما ناصر شیرازی کے اغواء کی بھرپور انداز میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناءاللہ اور شہباز شریف سیاسی مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اسی وجہ سے ناصر شیرازی کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ایک سیاسی جماعت ہے اور ناصر شیرازی محب وطن رہنما ہیں، ان کو اس طرح بیوی بچوں کے سامنے اغوا کر لینا پنجاب حکومت کی گڈ گورننس کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے لگا کر لاہور کو سیف سٹی بنایا گیا ہے، حکومت بتائے کہ آج ایک ہفتہ ہونے کو ہے لیکن ناصر شیرازی کا پتہ نہیں چل سکا، پولیس کا لاہور ہائیکورٹ میں جواب معاملے کو لٹکانے کی روایتی بھونڈی حرکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس شریف خاندان اور رانا ثناء اللہ کی غلام اور ملازم بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز سے کہتے ہیں فورس کو ریاست کی ملازم بنائیں، شریف برادران کا نوکر نہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکیورٹی اداروں نے ناصر شیرازی کو اغواء نہیں کیا تو حکومت ناصر شیرازی کے لواحقین کیساتھ تعاون کرے اور سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ان اغواء کاروں کا پتہ چلائے جنہوں نے اغواء کیا ہے اور ناصر شیرازی کے اہل خانہ کی داد رسی کرے، لیکن حکومت چونکہ خود مجرم ہے اس لئے اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کا سینئر رہنما اغوا ہو گیا ہے لیکن ابھی تک مقدمہ درج ہوا ہے کہ اس کے حوالے سے کوئی خبر سامنے آئی ہے کہ وہ کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راناثناء اللہ اور شہباز شریف نے اس حوالے سے ایک لفظ تک نہیں کہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ناصر شیرازی انہی کی تحویل  میں ہے۔ اعجاز چودھری نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ناصر شیرازی کے اہلخانہ اور ایم ڈبلیو ایم کیساتھ ہے اور ناصر شیرازی کی بازیابی تک ہم ہر احتجاج میں ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ اپنا آزادانہ کردار ادا کرے، حکومت کے دباؤ میں نہ آئے۔

یہ بھی پڑھیں

وکلا کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ کرنے کی، لاہور ہائیکورٹ

وکلا کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ کرنے کی، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وکلا کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے