جنرل قمر باجوہ: سپاہ کے اقدامات سے متاثر ہیں/ جنرل جعفری: دشمنوں کی سازشوں اور خباثتوں کے باوجود تعلقات حوصلہ افزا ہیں

تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں پاک فوج کے سپہ سالار سے ملاقات میں سپاہ پاسداران کے سربراہ نے مشورہ دیا کہ ایران 40 سالہ مزاحمتی تجربات کا حامل ملک ہے جبکہ پاکستان بھی جاری دہشت گردی پر عوامی رضاکار فورسز کے توسط سے قابو پا سکتا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ  اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے دونوں ملکوں کے درمیان عسکری اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔واضح رہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار ایک اعلیٰ وفد کے ہمراہ 3 روزہ دورے پر تہران میں ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ نے دشمنوں کی سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "پاکستان اور ایران کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ہم دشمن کی تمام تر سازشوں اور تفرقہ انگیز اقدامات کے باوجود اسلامی جمہوری ایران کے ساتھ  تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ خطے کی مسلم اقوام کے لیے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اقدامات اور امداد کو دیکھنے کے بعد وہ پہلے سے بھی زیادہ اس ادارے سے متاثر ہوئے ہیں۔منگل کے روز تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک ایران کی لازوال دوستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان دوستی کے رشتے گہرے اور نہایت مضبوط ہیں۔

اس موقع پر سپاہ پاسداران کے سپہ سالار میجر جنرل محمد علی جعفری نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے عوام کے مذہبی، عقیدتی، سماجی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سےامت مسلمہ اور خطے کے ملکوں کے خلاف دشمنوں کی سازشوں اور خباثتوں کے باوجود ایران اور پاکستان کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک اور قوموں کو کسی نہ کسی طرح سے امریکہ اور صیہونی حکومت کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دشمن کے مقابلے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے اور اپنے دفاعی اور عوامی مزاحمتی تجربات پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے پاکستان میں جاری دہشت گردی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "ملک میں جاری دہشت گردی پر عوامی رضاکار فورسز کے توسط سے قابو پایا جاسکتاہے کیونکہ اسلامی جمہوری ایران کو اس حوالے سے بہت تجربات حاصل ہیں ہم نے ملک میں عوامی رضاکاروں سے خدمات حاصل کی جو نہایت مفید واقع ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے اسلامی جمہوری ایران کے پاس 40 سالہ مزاحمتی تجربات موجود ہیں ہم اپنے تجربات کو برادر ملک منتقل کرنے کے لئے تیار ہیں۔پاک فوج کے سربراہ نے تجربات کے تبادلے کے اظہار پر سپاہ پاسداران کے سپہ سالار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: "میرے خیال میں دشمن کے مقابلے میں ایران کی سب سے بڑی کامیابی کی اہم وجہ عوام کی حمایت ہی ہے۔”

یہ بھی پڑھیں

بنگلا دیش میں گستاخانہ مواد پر ہنگامے پھوٹ پڑے، 4 افراد جاں بحق

بنگلا دیش میں گستاخانہ مواد پر ہنگامے پھوٹ پڑے، 4 افراد جاں بحق

بنگلادیش میں گستاخانہ مواد پر مبنی ایک فیس بک پوسٹ کیخلاف احتجاج کے دوران پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے