ایران اور پاکستان اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے قیام میں اہم کردار کرسکتے ہیں، ڈاکٹر حسن روحانی

تہران: پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی ملاقات اور گفتگو کی ہے۔ ایرانی ایوان صدر کے پریس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کی شام ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی اور ایران و پاکستان کے تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران پاکستان تعلقات کا فروغ دونوں ملکوں کے عوام کی خواہش ہے اور بلا شبہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات سیاسی تعلقات سے کہیں بالا تر ہیں۔ ایرانی صدر نے دہشت گردی اور فرقہ واریت کو عالم اسلام کی دو اہم ترین مشکلات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان اسلامی ملکوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے قیام میں اہم کردار کرسکتے ہیں۔ قبل ازیں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ اور ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز ہونے والی اپنی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے سب ہی معاملات پر بات چیت کی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جواد ظریف کے درمیان ملاقات میں سرحدی سکیورٹی، انسداد منشیات نیز دہشت گردی و انتہا پسندی کی روک تھام جیسے معاملات زیر غور آئے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے اتوار کی شب تہران پہنچے تھے۔

دیگر ذرائع کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقات میں بارڈر سکیوٹی منیجمنٹ پر زور دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے دورہ ایران کے دوران ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد باقری سے جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی۔ ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر آرمی چیف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جبکہ انہوں نے یادگار شہداء پر پھول بھی چڑھائے، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدارتی محل میں ایرانی صدر حسن روحانی اور وزارت خارجہ میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت نے آرمی چیف کا دورہ ایران پر شکریہ ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایرانی قیادت کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں پاکستان کا کردار انتہائی مثبت ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں میں آرمی چیف اور ایرانی قیادت کے درمیان جیو اسٹریٹیجک ماحول، دفاع و سکیورٹی اور دوطرفہ و علاقائی سطح پر اقتصادی تعاون پر تبالہ خیال کیا گیا۔ افغانستان کی صورتحال، خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پاک ایران سرحدی سکیورٹی صورتحال کے معاملات بھی ملاقاتوں میں زیر غور آئے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک ایران سرحد کو "امن اور دوستی” کا بارڈر قرار دیتے ہوئے بہتری کے لئے سکیورٹی منیجمنٹ پر زور دیا، تاکہ دہشت گردوں کو اس کے غلط استعمال سے روکا جاسکے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اور ایران مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب والے دو برادر ممالک ہیں، جبکہ دونوں آرمیز کا بھی دفاعی اشتراک اور تعاون دہائیوں پر محیط ہے، جس سے دونوں ممالک مشترکہ طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جنرل باجوہ نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالتے ہی تہران کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ میں کردار ادا کرنے کا آغاز کیا، اس حوالے سے انہوں نے گذشتہ کچھ ماہ میں کئی بار پاکستان میں ایرانی سفیر مہدی ہنردوست نے ملاقاتیں کیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے کے استحکام اور امن کے لیے پاک ایران فوجی تعاون کا فروغ ضروری ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ داعش خطے کی سکیورٹی کے لئے خطرہ ہے، جس کے لئے امریکہ کی افغانستان میں رکنے کی پالیسی دونوں ممالک کے مفادات کے لئے نقصان دہ ہے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات ضروری ہیں۔ خیال رہے کہ ایران دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے، جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر پاکستان کی حمایت کی تھی، جس کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے تہران کا دورہ بھی کیا تھا اور ٹرمپ کی پالیسی کے حوالے سے علاقائی ممالک سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

آل سعود کے جرائم پر دنیا میں صدائے اعتراض بلند

آل سعود کے جرائم پر دنیا میں صدائے اعتراض بلند

عالمی اداروں، تنظیموں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے سعودی عرب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے