سعودی فوجی اتحاد نے یمن کی بری، بحری اور فضائی حدود کو بند کردیا

ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت پر میزائل حملوں کے بعد یمن کے حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی زیر قیادت تشکیل دیئے گئے عرب فوجی اتحاد نے یمن کی بری، بحری اور فضائی حدود کو عارضی طورپر بند کردیا ہے۔ سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کےمطابق عرب اتحادی فوج کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے حوثیوں کو فراہم کردہ میزائل فوجی جارحیت اور جنگ کے مترادف ہے، جب کے یہ سعودی عرب کی خود مختاری پر براہ راست حملہ ہے، حوثیوں کی جانب سے اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا تاہم مزید حملوں کے پیش نظر یمن کی بری،بحری اور فضائی حدود کوعارضی طورپربند کردیا گیا ہے۔

سعودی فوجی اتحاد کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ کو یمن کے حوثیوں نے میزائلوں سے نشانہ بنایا اگرچہ حکام کی جانب سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے میزائلوں کو گرادیا گیا جب کہ یمنی سرحد کو ایران کی جانب سے حوثی قبائل کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے لئے بند کیا گیا جو کہ سعودی عرب کی خودمختاری کےلئے خطرہ بنتا جارہاہے، سعودی عرب ہر محاذ پراپنا دفاع کرے گا اور اپنے دفاع کے لئے سعودی عرب کو ایران کو حوثیوں کو استعمال کرکے سعودی مخالف کارروائیوں پر مناسب وقت میں جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے عارضی طورپر بند کی جانے والی فضائی بحری اور بری سرحدوں پر انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والےکارکنوں کی آمدو رفت کی حفاظت کو یقینی بناجارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

واضح اکثریت کے, ساتھ, آئینی تبدیلی کو, منظور کیا

واضح اکثریت کے ساتھ آئینی تبدیلی کو منظور کیا

مصر: آئینی ترمیم کے لیے گزشتہ تین روز سے جاری ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے