بلوچستان میں ایف سی آر نہیں لیکن پھر بھی وہ فاٹا سے زیادہ پسماندہ ہے، مولانا فضل الرحمٰن

ٹانک: جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فاٹا ایف سی آر نہیں بلکہ حکمرانوں کی نیت کی وجہ سے پسماندہ رہ گیا ہے۔ خیبر پختوننخوا کے شہر ٹانک میں پیغام امن و فضلاء کانفرنس سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایف سی آر میں تعلیم، صحت اور ترقیاتی کاموں پر پابندی نہیں تاہم قبائلی علاقوں کو ایک سازش کے تحت پسماندہ رکھا گیا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان میں ایف سی آر نہیں لیکن پھر بھی وہ فاٹا سے زیادہ پسماندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کا صوبے میں انضمام ایک تاریخی ظلم ہوگا، کیونکہ قبائلیوں کا زیادہ فائدہ الگ صوبے کے قیام میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائل کی مکمل آبادکاری و بحالی سے قبل ان کے مستقبل کے فیصلے سے گریز کیا جائے جبکہ قبائلیوں کے حقوق کیلئے وہ ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مدارس کے حوالے سے حکومتی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کی خاطر درجنوں علماء نے جام شہادت نوش کیا تاہم اس کے باوجود مدارس کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، دینی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے کہنا ظلم کی انتہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جانوروں کو لگائے جانے والے ممنوعہ انجکشن کوئٹہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

جانوروں کو لگائے جانے والے ممنوعہ انجکشن کوئٹہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

کوئٹہ: کسٹم حکام نے بتایا کہ دبئی سے آنے والے مسافر طیارے سے 15 ہزار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے