افغان حکومت نے واٹس ایپ پر پابندی عائد کردی

کابل: افغانستان کی حکومت نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ملک میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر عارضی پابندی عائد کردی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان ٹیلی کام اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ طالبان اورشدت پسند گروپ اکثر حکومتی تنصیبات اور شخصیات کو نشانہ بنانے کے لیے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعے پیغام رسانی کرتے ہیں۔ اس لیے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ واٹس اپ اور ٹیلی گرام سروس کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ وزارت مواصلات کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خفیہ ایجنسی نے 20 روز کے لیے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔ جس پر حکومت نے عملدرآمد کرتے ہوئے عارضی طور پر پیغام رسانی کی مذکورہ سروسز کو معطل کردیا ہے تاہم انہوں نے پابندی کی مدت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا کہ یہ پابندی کتنے عرصے کے لیے برقرار رہے گی۔ افغان حکام نے پرائیویٹ ٹیلی کام اتھارٹی کی جانب سے آزادی اظہار رائے کا حق چھیننے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث پیغام رسانی کی سروسز بند ہونے سے عوام کا اظہار رائے کی آزادی کا بنیادی اور جمہوری حق محروم نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

کیون مک امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ تھے

کیون مک امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ تھے

واشنگٹن: امریکا کے قائم مقام قومی سلامتی کے سربراہ کیون مک الینن نے اپنی تعیناتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے