اداروں کی سمت درست کرنے کی اشد ضرورت ہے، رضا ربانی

اسلام آباد:  چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا ہے موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی سمت کو درست کریں اور اس حوالے سے سینیٹ رہنمائی کرے گی۔ سینیٹ اجلاس کے دوران ریاستی اداروں کے اختیارات کے دائرہ کار سے متعلق بحث ہوئی۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ تمام ادارے آئین کی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں، پارلیمنٹ ایک ٹرینڈ سیٹ کر رہا ہے اور ارکان سینیٹ خود کو احتساب کے دائرے میں لاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کے اختیارات پر صرف بحث کرنا بے کار ہے، اب پارلیمان کو کوئی راستہ دکھانا ہوگا اور سینیٹ رہنمائی کرے گی، حالات اجازت نہیں دیتے کہ صرف بیٹھ کر معاملے پر بحث کی جائے لہذا موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی سمت کو درست کریں۔

سینیٹر اعظم موسیٰ خیل کا کہنا تھا کہ سب اداروں کے احتساب کے لیے ایک ادارہ ہونا چاہیے، ملک میں آمریت زیادہ اور جمہوریت کم رہی، سب سے زیادہ کمزور ترین ادارہ پارلیمنٹ ہے، نیب کو اپنی حدود میں رہنا ہوگا اور سویلینز کو پنڈی والوں سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ سینیٹر نثار محمد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اصل میں ایگزیکٹو کی بالادستی کا دور تھا اور ایگزیکٹو کی وجہ سے پارلیمنٹ کی بالادستی تھی جب کہ غلط پر خاموش رہنا کمزور ترین عمل ہے۔ سینیٹر مظفر حسین نے کہا کہ عدلیہ سمیت ہر ادارے کے اختیارات کی حد پارلیمنٹ مقرر کرتی ہے اور صدر کے اختیارات کا تعین بھی پارلیمنٹ کرتی ہے، لیکن پارلیمنٹ آرٹیکل 62، 63 میں ترمیم نہیں کر سکی جو آج تک آئین کا حصہ ہیں، پارلیمنٹ کی جانب سے اختیارات کا استعمال نہ کرنے کا ذمہ دار عدلیہ سمیت کسی کو بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے عوامی نمائندوں کو اپنے اختیارات استعمال کرنا ہوں گے، کیونکہ پارلیمنٹ باقی اداروں کی ماں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سِی پیک سے, خصوصی پروگرامز, کے, تین ارب کم کر, دیئے گئے

سِی پیک سے خصوصی پروگرامز کے تین ارب کم کر دیئے گئے

اسلام آباد: رضا ربانی نے سی پیک پروگرامز کیلئے خصوصی اقدامات کے 27 ارب میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے