سٹی کونسل کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی، ایوان مچھلی بازار بن گیا

کراچی: کراچی سٹی کونسل کے اجلاس میں اپوزیشن اور ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے شدید نعرے بازی کی جس کے باعث اجلاس 5 منٹ میں ہی ملتوی کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی کونسل کا اجلاس شور شرابے اور نعرے بازی کے باعث شروع ہوتے ہی ختم ہوگیا۔ مئیرکراچی وسیم اختر اجلاس کی صدارت کرنے بلدیہ عظمیٰ کے مرکزی دفتر پہنچے تو اپوزیشن نے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور میئر کراچی پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے جب کہ ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دی گئیں۔ اپوزیشن کے شور شرابے اور نعرے بازی کے دوران میئر کراچی نے امپریس الاؤنس کی منظوری کی قرارداد منظور کرلی اور صرف 5 منٹ بعد ہی اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اگر میئر کراچی وسیم اختر ہمیں وقت دیتے اور ہماری بات سن لیتے تو ان کا پول کھل جاتا اسی وجہ سے 5 منٹ بعد ہی اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ اجلاس کو ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی مانیٹر کر رہی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ میئر کراچی کو ان کی کرپشن کی وجہ سے ان کے ساتھی چھوڑ کر جارہے ہیں، 26 ارب روپے میں سے ایک روپیہ بھی کراچی پر خرچ نہیں کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ آج کا اجلاس ایک روٹین کا اجلاس تھا، سٹی کونسل میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے درمیان طے ہوا تھا کہ ایجنڈے کو پہلے ختم کیا جائے گا، اس کے بعد کسی بھی قرارداد کو لایا جائے گا، یہی پارلیمانی طریقہ ہے لیکن ایسی کوئی قرارداد نہیں آئی جس کی افواہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں آنے کے لئے اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب سٹی کونسل میں قائد حزب اختلاف کرم اللہ وقاصی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کے ایم سی تاریخی خسارے میں ہے اور آج کے اجلاس میں وسیم اختر نے الزامات کو سچ ثابت کردیا ہے۔ اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے آنے والے پی ایس پی رہنما آصف حسنین کا کہنا تھا کہ میئر کراچی ہر ٹھیکے میں کمیشن لے رہے ہیں، ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے ارشد وہرا نے ان کی جماعت چھوڑی، اب عوام سب جان چکے ہیں، کرپشن اور لوٹ مار کی سیاست اب نہیں چلے گی، بہت جلد ایم کیو ایم پاکستان کے سارے بڑے کرپٹ ملک سے بھاگنے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیا بینچ تشکیل, دینے کے لیے, معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا, دیا

نیا بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا

کراچی: جسٹس محمد سلیم جیسر نے کرپشن کیس میں آغا سراج درانی اور دیگر کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے