خالد خواجہ کے قتل کا مقدمہ حامد میر اور عثمان پنجابی کیخلاف درج کرنے کا حکم

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے اسلام آباد پولیس کو حکم دیا ہے کہ سینئر صحافی حامد میر اور عثمان پنجابی کیخلاف خالد خواجہ قتل کیس کا مقدمہ درج کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تبسم ملک کی درخواست پر سماعت کی، جس دوران وکیل سردار طارق فریدنے موقف اختیار کیا کہ خالد خواجہ کو منصوبہ بندی کے تحت 2010ء میں جنوبی وزیرستان لے جاکر قتل کردیا گیا، جس کی آڈیو ریکارڈنگ تھانہ رمنا اسلام آباد پولیس کے پاس موجود ہے، پولیس کو تمام تر شواہد فراہم کر دئیے، لیکن مقدمہ درج کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے 22A کی درخواست پر سیشن کورٹ سے رجوع کیا گیا، لیکن 14 جون 2017ء کو درخواست خارج کر دی گئی، استدعا ہے کہ پولیس کو خالد خواجہ قتل کیس کا مقدمہ حامد میر اور عثمان پنجابی کیخلاف درج کرنے کا حکم دیا جائے، چنانچہ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سب انسپکٹر شفیق کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا اور درخواست نمٹا دی۔ واضح رہے کہ خالد خواجہ کے صاحبزادے اسامہ خالد نے تھانہ شالیمار میں اپنے وکیل کے ہمراہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تحریری درخواست دی تھی، درخواست میں معروف صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر، عثمان پنجابی اور اغواء کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم ایشین ٹائیگرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا گیا تھا، خالد خواجہ کو ایشن ٹائیگرز نامی ایک غیر معروف تنظیم نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اغوا کرنے کے بعد ہلاک کر دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ وہ دستاویزی فلم بنانے کے لیے قبائلی علاقے گئے تھے۔​

یہ بھی پڑھیں

پارلیمانی, نظام میں بہت, سمجھوتے کرنا, پڑتے ہیں

پارلیمانی نظام میں بہت سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں

اسلام آباد: مؤثر حکومت کے لیے اہل لوگوں کو حکومت میں شامل کرنے کا اختیار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے