ٹیکنوکریٹ حکومت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، وزیراعظم

لندن: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ٹیکنوکریٹ حکومت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ  نجی کاموں کی وجہ سے لندن آئے ہیں اور اس دورے پر قوم کے نہیں اپنے خرچ پر آئے ہیں۔ نواز شریف سے پیر کے روز ملاقات ہوگی، جس میں مختلف امور پر غور کیا جائے گا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : شاہد اور شہباز لندن، خواجہ آصف سعودی عرب روانہ
وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں کوئی اختلاف نہیں ، آئین کے تحت جمہوری پارٹی میں جو بھی اختلاف ہوتا ہے اس کا اظہار کیا جاتا ہے، نا تو سازشوں پر یقین رکھتا ہوں اور نا ہی اس کی کوئی گنجائش ہے، ملک کے اداروں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں، ہمارا ملک ایک ہے اور اس کے سارے ادارے ایک ہی طرف ہیں۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
لاہور میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جارہے ٹی 20 میچ پر وزیر اعظم نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم کا پاکستان آنا اچھا اقدام ہے، آئندہ  دیگر ٹیمیں بھی آئیں گی۔


لندن: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ٹیکنوکریٹ حکومت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ  نجی کاموں کی وجہ سے لندن آئے ہیں اور اس دورے پر قوم کے نہیں اپنے خرچ پر آئے ہیں۔ نواز شریف سے پیر کے روز ملاقات ہوگی، جس میں مختلف امور پر غور کیا جائے گا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : شاہد اور شہباز لندن، خواجہ آصف سعودی عرب روانہ

وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں کوئی اختلاف نہیں ، آئین کے تحت جمہوری پارٹی میں جو بھی اختلاف ہوتا ہے اس کا اظہار کیا جاتا ہے، نا تو سازشوں پر یقین رکھتا ہوں اور نا ہی اس کی کوئی گنجائش ہے، ملک کے اداروں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں، ہمارا ملک ایک ہے اور اس کے سارے ادارے ایک ہی طرف ہیں۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

لاہور میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جارہے ٹی 20 میچ پر وزیر اعظم نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم کا پاکستان آنا اچھا اقدام ہے، آئندہ  دیگر ٹیمیں بھی آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

مشتاق سکھیرا,وفاقی ٹیکس محتسب برطرفی کا, حکومتی نوٹفکیشن, معطل

مشتاق سکھیراوفاقی ٹیکس محتسب برطرفی کا حکومتی نوٹفکیشن معطل

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے مشتاق سکھیرا کی بطور وفاقی ٹیکس محتسب برطرفی کا حکومتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے